دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کے اسمبلی حلقہ شالیمار باغ میں منگل کی دیر شب بڑے پیمانہ پر بلڈوزر کارروائی دیکھنے کو ملی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق میکس ہاسپیٹل روڈ پر سڑک چوڑی کرنے کے منصوبہ کے تحت یہ توڑ پھوڑ کی کارروائی کی گئی۔ اس دوران مدینہ مسجد اور آس پاس کے گھروں سمیت کچھ دیگر تجاوزات کو ہٹایا گیا۔ جب یہ توڑ پھوڑ کی جا رہی تھی، تو مدینہ مسجد توڑے جانے کی شدید مخالفت ہوئی۔ اے آئی ایم آئی ایم کے دہلی یونٹ صدر شعیب جامعی دیر رات شالیمار باغ پہنچ گئے، جس کی وجہ سے ہائی وولٹیج ڈرامہ دیکھنے کو ملا۔
بتایا جاتا ہے کہ منگل کی رات شالیمار باغ میں جب بلڈوزر کارروائی ہوئی، تو اس سے قبل بڑی تعداد میں پولیس فورس کی تعیناتی کر دی گئی تھی۔ توڑ پھوڑ شروع ہوتے ہی آس پاس کے کافی لوگ جمع ہو گئے تھے۔ اے آئی ایم آئی ایم کے دہلی صدر شعیب جامعی نے اس تعلق سے کہا کہ نصف شب کو مسجد کا انہدام غیر آئینی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’اتر پردیش کے سہارنپور میں بھی اسی طرح سے مسجد گرائی گئی تھی۔ لیکن شالیمار باغ کو سہارنپور پارٹ-2 نہیں بننے دیں گے۔‘‘ انہوں نے الزام لگایا کہ مسجد کے امام کو انہدام سے پہلے اندر رکھے دستاویزات، قرآن اور جانور تک باہر نکالنے کی مہلت نہیں دی گئی۔
اس درمیان مدینہ مسجد سے منسلک مبین خان نے کہا کہ ’’وکیل کے مشورے پر دستاویزات کی صاف کاپی حاصل کرنے کے لیے ایک نئی درخواست دی گئی تھی تاکہ صحیح جواب تیار کیا جا سکے، لیکن اسی دوران ایم سی ڈی نے پہلا، پھر دوسرا اور پھر تیسرا نوٹس جاری کر دیا، جس میں کہا گیا کہ 15 دن کے اندر توڑ پھوڑ کی کارروائی کی جائے گی۔ اس کے بعد اپیلیٹ ٹریبونل میں کیس دائر کیا گیا، جہاں 15 تاریخ کو ہوئی پہلی سماعت میں کہا گیا کہ بجلی کے میٹر والی ایک منزل کو تو منظوری دی گئی، لیکن باقی حصے کو نئی تعمیر قرار دیا گیا۔ جب ہم نے ان سے دیواروں پر لگے پلستر کی عمر کی جانچ کرنے کو کہا اور بتایا کہ ہم نے 2001 میں ہی 3 منزلیں بنائی تھیں اور ان کے سائٹ پلان عدالت میں جمع کیے تھے، تو جج نے نقشوں یا ہماری دلیلوں پر کوئی توجہ نہیں دی اور حکم دیا کہ اوپری منزلوں کو توڑا جا سکتا ہے۔‘‘
اس معاملے میں ایک مقامی رہائشی نے کہا کہ ’’گھر سے باہر آنے کے بعد ہی ہمیں پتہ چلا کہ وہ مسجد کا ایک حصہ گرانے آئے تھے۔ ہمیں یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ وہ خاص طور پر مسجد کا ایک حصہ توڑنے کے لیے آ رہے ہیں۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’ہم نے بس بھیڑ، پولیس اہلکاروں اور گاڑیوں کو دیکھا۔ سب سے پہلی بات، انتظامیہ رات میں اس طرح کا کام کیسے کر سکتی ہے؟‘‘