سرینگر/جموں و کشمیر پیپلز کانفرنس کے صدر اور ہندواڑہ سے رکن اسمبلی سجاد لون نے جمعرات کو جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے فلور پر ایک ولولہ انگیز خطاب کرتے ہوئے اسپیکر، حکمران جماعت اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقے میں منتخب نمائندوں کے حقوق اور استحقاق کی منظم پامالی کے خلاف سخت آواز اٹھائی۔اسپیکر سے براہ راست سوال کرتے ہوئے، سجاد لون نے یونین ٹیریٹری کے ڈھانچے کے تحت ارکانِ اسمبلی کی آئینی حیثیت کے حوالے سے وضاحت طلب کی۔انہوں نے استفسار کیا’’کہا آج ہم ایک یو ٹی کے ارکانِ اسمبلی ہیں۔ جناب، میرا سوال صرف آپ سے ہے، کسی اور سے نہیں۔ ہمارے کیا حقوق ہیں؟ کیا ہمارا کوئی استحقاق بھی ہے؟۔
ان کی اس شدید ناراضگی کا بنیادی سبب حلقے کے ترقیاتی فنڈز کا کھلم کھلا رخ موڑنا اور حکمران جماعت کے وزراء کو نوازنے کے لیے منتخب ارکانِ اسمبلی کو نظر انداز کرنا تھا۔ انہوں نے اسپیکر سے وضاحت کا مطالبہ کرتے ہوئے پوچھا، بطور رکن اسمبلی اور ہندواڑہ کے نمائندے کی حیثیت سے، اگر میں ان کاموں کی فہرست دیتا ہوں جو ہونے چاہییں، تو یہ استحقاق میرا ہے یا کسی وزیر کا؟
سجاد لون نے متنبہ کیا کہ اپوزیشن ارکان اس معاملے کو وزیراعظم اور مرکزی وزیرِ داخلہ تک لے جانے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جموں و کشمیر کے لیے مختص کیے گئے عوامی فنڈز عوام کی فلاح کے لیے ہیں یا کسی مخصوص سیاسی جماعت کو فائدہ پہنچانے کے لیے؟انہوں نے اس بات کی نشاندہی بھی کی کہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے اپوزیشن ارکان نے اپنے عوامی رویے میں دانستہ طور پر تحمل کا مظاہرہ کیا ہے، کیونکہ وہ اس حقیقت سے باخبر ہیں کہ ان کے بیانات کو ریاست کے درجے کی بحالی کے وسیع تر مطالبے کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا ہم اس لیے خاموش بیٹھے ہیں تاکہ ہماری کہی ہوئی باتیں کہیں ہمارے ہی خلاف استعمال نہ ہوں۔
اسمبلی کی سات دہائیوں پر محیط تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے، سجاد لون نے اسپیکر سے اس ادارے کے وقار اور تقدس کو برقرار رکھنے کی پرزور اپیل کی۔ ماضی کے تجربہ کار قانون سازوں کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے استدلال کیا کہ کوئی بھی وزارتی تقرری بشمول ان کے، جنہیں انہوں نے طنزیہ طور پر ’’حادثاتی‘‘قرار دیاایوان اور اس کے منتخب ارکان کے اختیارات اور وقار پر سبقت نہیں لے سکتی۔
سجاد لون نے اپوزیشن ارکان کو نظرانداز کیے جانے کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے کہا، خدارا، ان حادثاتی وزیروں کو حقیقت سے آگاہ کریں۔ یہ پیسہ ان کی ملکیت نہیں، بلکہ حکومت کی طرف سے آتا ہے۔ جن لوگوں نے انتخابات میں حصہ لیا، جنہوں نے آئین اور قانون کا حلف اٹھایا، یہ اختیار ان کے پاس ہے، نہ کہ ان وزیروں کے پاس۔انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ’’اگر انہیں لگتا ہے کہ وہ ہمیں روند کر آگے بڑھ جائیں گے، تو اس کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
سجاد لون نے استحقاق کی مبینہ پامالی کے نتائج پر اسپیکر کو خبردار کرتے ہوئے اپنی بات کا اختتام کیا اور استفسار کیا کہ اب منتخب ارکان کے پاس کون سا ادارہ جاتی لائحہ عمل یا راستہ باقی رہ گیا ہے؟انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ ہمارے پاس صرف دو ہی راستے بچتے ہیں۔ یا تو ہم سڑکوں پر نکل آئیں، یا پھر مرکز سے رجوع کریں اور لیفٹیننٹ گورنر (LG) کو لکھیں، جو کہ ہم نہیں کرتے۔ ہمارا تقدس اور وقار اسی ایوان سے وابستہ ہے۔