ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

بینک یونینوں کے احتجاج کے لیے متبادل مقام پر پولیس پیر تک فیصلہ کرے: دہلی ہائی کورٹ

نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے پولیس کو ہدایت دی ہے کہ 28، 29 اور 30 ستمبر کو بینک یونینوں کے پُرامن احتجاج کے لیے جنتر منتر کے علاوہ کسی متبادل مقام کی اجازت دینے کی درخواست پر پیر تک فیصلہ کیا جائے۔ جسٹس امت مہاجن نے پولیس سے کہا کہ وہ بینک یونینوں کی جانب سے تجویز کردہ متبادل مقام پر احتجاج کی اجازت دینے کے معاملے پر فیصلہ کرے اور اس کی اطلاع یونینوں کے وکیل کو پیر کی شام 4 بجے تک دے۔

عدالت میں پولیس نے بتایا کہ جنتر منتر پر نظم و نسق سے متعلق مسائل موجود ہیں، جس کے باعث وہاں احتجاج کی اجازت دینے میں دشواری ہے۔ بینک یونینوں نے ابتدا میں جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت طلب کی تھی، تاہم متبادل طور پر دہلی میں کسی دوسرے مقام پر پُرامن مظاہرہ کرنے کی اجازت دینے کی درخواست بھی کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں :

یونینوں کی جانب سے دائر درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ احتجاج کی اجازت دینے میں تاخیر یا اجازت نہ ملنے سے انہیں پُرامن اجتماع اور احتجاج کے اپنے بنیادی حقوق کے استعمال میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ درخواست کے مطابق، یونینوں نے 11 ستمبر کو ہونے والے احتجاج کے لیے 27 اگست کو ہی اجازت طلب کر لی تھی۔ بعد میں انہوں نے رام لیلا میدان، راجندر پلیس اور دوارکا سمیت دیگر مقامات پر احتجاج کی اجازت کے لیے بھی حکام سے رابطہ کیا۔

درخواست میں بتایا گیا کہ دوارکا کے سیکٹر 10 میں احتجاج کی اجازت برکس سربراہ اجلاس کا حوالہ دیتے ہوئے نہیں دی گئی۔ یونینوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے 18 ستمبر کو احتجاج کے لیے یکم ستمبر کو ڈی سی پی، پارلیمنٹ اسٹریٹ کو درخواست دی تھی، لیکن 17 دن تک انہیں کوئی جواب نہیں ملا۔ بعد ازاں 17 ستمبر کی رات تقریباً 10 بجے انہیں اجازت مسترد کیے جانے کی اطلاع دی گئی۔

یہ بھی پڑھیں :

بینک یونینوں کے مطابق، بار بار درخواستیں دینے کے باوجود انہیں احتجاج کے لیے بروقت اجازت نہیں مل رہی، جس سے ان کے احتجاجی پروگرام کی منصوبہ بندی متاثر ہو رہی ہے۔ ہائی کورٹ کے سامنے یونینوں نے مطالبہ کیا کہ انہیں پُرامن احتجاج کے لیے مناسب متبادل مقام فراہم کیا جائے۔ عدالت کی ہدایت کے بعد اب پولیس کو پیر تک اس معاملے پر اپنا فیصلہ کرنا ہوگا اور اس سے بینک یونینوں کے وکیل کو آگاہ کرنا ہوگا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں