سری نگر/جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں جمعہ کو اُس وقت زبردست ہنگامہ آرائی ہوئی جب وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد میں سال 2000 کی خودمختاری قرارداد کا حوالہ دیے جانے پر بی جے پی ارکان نے شدید احتجاج کیا، جس کے بعد اسپیکر نے ایوان کی کارروائی نصف گھنٹے کے لیے ملتوی کردی۔
بی جے پی ارکان احتجاج کرتے ہوئے ایوان کے ویل میں پہنچ گئے اور نعرے بازی کی۔ اس دوران ارکان نے ’’جہاں ہوا بلیدان مکھرجی، وہ کشمیر ہمارا ہے‘‘اور ’’جو کشمیر ہمارا ہے، وہ سارا کا سارا ہے‘‘جیسے نعرے بلند کیے۔
یہ ہنگامہ اُس وقت شروع ہوا جب ایوان میں جموں و کشمیر کے لیے مکمل ریاستی حیثیت کی فوری اور ہنگامی بحالی سے متعلق وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی پیش کردہ قرارداد پر بحث جاری تھی۔نیشنل کانفرنس کے ارکان نے قرارداد میں خودمختاری قرارداد کے حوالے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی جموں و کشمیر کے حقوق کے حصول کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
ہنگامہ آرائی بڑھنے پر دونوں جانب کے ارکان نے نعرے بازی شروع کردی، جس کے باعث اسپیکر کو مداخلت کرنا پڑی۔ صورتحال قابو میں نہ آنے پر اسپیکر نے اسمبلی کی کارروائی نصف گھنٹے کے لیے ملتوی کردی۔