سری نگر/وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو جموں و کشمیر کی مکمل ریاستی حیثیت بحال کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے قانون ساز اسمبلی میں قرارداد پیش کردی۔وقفہ سوالات ختم ہونے کے بعد وزیرِ اعلیٰ نے قرارداد پیش کرتے ہوئے حکومتِ ہند سے جموں و کشمیر کی مکمل ریاستی حیثیت فوری طور پر بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔قرارداد میں کہا گیا ہے، ’’اس ایوان کی جانب سے 26 جون 2000 اور 6 نومبر 2024 کو منظور کی گئی قراردادوں کے علاوہ، یہ ایوان حکومتِ ہند سے جموں و کشمیر کی مکمل ریاستی حیثیت بحال کرنے کا مطالبہ کرتا ہے اور فیصلہ کرتا ہے کہ اس قرارداد کو حکومتِ ہند کو بھیجا جائے۔‘‘
واضح رہے کہ فاروق عبداللہ کی قیادت والی نیشنل کانفرنس حکومت نے 26 جون 2000 کو جموں و کشمیر کی خودمختاری کی بحالی سے متعلق قرارداد منظور کی تھی، جبکہ 6 نومبر 2024 کو اسمبلی نے جموں و کشمیر کا خصوصی درجہ بحال کرنے کے مطالبے پر قرارداد منظور کی تھی۔
قرارداد میں سال 2000 کی خودمختاری سے متعلق قرارداد کا حوالہ دیے جانے پر بی جے پی ارکان نے شدید احتجاج کیا۔ بی جے پی رکن اسمبلی رنبیر سنگھ پٹھانیہ نے کہا کہ وہ ایوان میں خودمختاری کے معاملے پر بحث کی اجازت نہیں دیں گے۔بعد ازاں بی جے پی کے ارکان احتجاج کرتے ہوئے ایوان کے ویل میں پہنچ گئے۔ بعض ارکان نشستوں پر چڑھ گئے اور شدید نعرے بازی کی۔ احتجاج کے دوران بعض بی جے پی ارکان نے قرارداد کی نقول پھاڑ دیں۔