ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

’رن فار یونٹی ‘میں حصہ لینے والوں نے ملک کی روح اور ایک پرامن ،متحد وترقی کی جانب گامزن جموں کشمیر کیلئے دوڑ لگائی: ایل جی منوج سنہا

سری نگر/جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو کہا کہ ’رن فار یونٹی‘ میں حصہ لینے والے 6 ہزار سے زائد افراد نے محض میراتھن میں شرکت نہیں کی بلکہ انہوں نے ہندوستان کی روح اور ایک پُرامن، متحد اور ترقی کی جانب گامزن جموں و کشمیر کے لیے دوڑ لگائی۔پولیس گالف کورس، ڈل جھیل سری نگر میں جموں و کشمیر پولیس کی جانب سے منعقدہ ’رن فار یونٹی‘ میراتھن کی پرچم کشائی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے تمام شرکاء کو مبارکباد دی اور نوجوانوں کے جوش و جذبے کو سراہا۔انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کی شاندار توانائی دیکھ کر انہیں خوشی ہوئی اور وہ تمام رنرز، شرکاء اور جموں و کشمیر پولیس کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہیں۔
سنہا نے کہا کہ شرکاء نے اپنی شرکت کے ذریعے ایک مضبوط پیغام دیا ہے اور یہ ایک پُرامن اور متحد جموں و کشمیر کے عزم کا اجتماعی اظہار ہے۔انہوں نے کہا، ’’تمام فاتحین اور شرکاء نے ثابت کیا ہے کہ انہوں نے یہ میراتھن ہندوستان کی روح کے لیے دوڑ لگائی ہے اور ایسے جموں و کشمیر کے لیے دوڑے ہیں جو پُرامن، متحد اور مسلسل آگے بڑھنے کی کوشش کر رہا ہے۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ ’رن فار یونٹی‘ صرف دوڑنے کی رفتار کا نام نہیں بلکہ اجتماعی عزم کی رفتار بھی ہے۔ ان کے مطابق جب لوگ مل کر آگے بڑھتے ہیں تو کوئی منزل ناممکن نہیں رہتی۔انہوں نے اتحاد کو ملک کی سب سے بڑی طاقت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کا تنوع اس کی کمزوری نہیں بلکہ اس کی شناخت اور طاقت ہے۔
سنہا نے کہا کہ ملک میں زبانیں، روایات، کھانے اور لباس مختلف ہیں، تاہم ان تمام اختلافات کے باوجود ہندوستان سب کے دلوں میں دھڑکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اجتماعی کوششوں کے ذریعے بڑے سے بڑے چیلنج کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ جب لاکھوں قدم ایک سمت میں بڑھتے ہیں تو بڑی سے بڑی رکاوٹ بھی چھوٹی ہو جاتی ہے اور جب لاکھوں دل ایک مقصد کے لیے متحد ہوتے ہیں تو کوئی پہاڑ اتنا بلند نہیں ہوتا جسے عبور نہ کیا جا سکے۔
نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ ان کی شرکت مستقبل میں سرمایہ کاری کے مترادف ہے اور انہیں جموں و کشمیر کو خود کفیل اور ترقی یافتہ بنانے کے لیے کام کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا، آپ نے صرف اپنے لیے دوڑ نہیں لگائی بلکہ نئی نسل اور ان نوجوانوں کے لیے دوڑ لگائی ہے جو جموں و کشمیر کو خود کفیل اور ترقی یافتہ بنانے کے لیے دن رات محنت کر رہے ہیں۔
سنہا نے کہا کہ نوجوانوں کو اپنے مقاصد کے حصول کے دوران مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا، تاہم اتحاد، یقین اور عزم انہیں ان چیلنجز پر قابو پانے میں مدد دے سکتے ہیں۔انہوں نے جموں و کشمیر پولیس کے سول ایکشن پروگرام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پولیس تعمیری سرگرمیوں کے ذریعے ہزاروں نوجوانوں کو بااختیار بنانے کا کام کر رہی ہے اور یہ جموں و کشمیر پولیس کا انسانی چہرہ ہے۔انہوں نے کہا کہ قانون و نظم کی صورتحال، انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں، سماجی معاونت اور قدرتی آفات کے دوران پولیس عوام کے لیے دستیاب رہتی ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اتحاد کی اس تحریک کے ’برانڈ ایمبیسیڈر‘ بنیں اور محنت، عزم اور صبر کے ذریعے اپنے مستقبل کو سنواریں۔انہوں نے جسمانی اور ذہنی صحت کی اہمیت پر بھی زور دیتے ہوئے نوجوانوں سے ’فٹ انڈیا موومنٹ‘ میں شریک ہونے کی اپیل کی۔
سنہا نے لوگوں خصوصاً نوجوانوں سے کہا کہ وہ عوام کے درمیان بھائی چارے کو مضبوط کریں اور خود کو امن، ہم آہنگی اور اتحاد کے لیے وقف کریں۔انہوں نے کہا کہ میراتھن میں حقیقی کامیابی صرف اختتامی لائن عبور کرنے میں نہیں بلکہ ایک دوسرے کی مدد کرتے ہوئے اجتماعی طور پر آگے بڑھنے میں ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ لوگ مختلف راستوں سے آ سکتے ہیں اور ان کی شناختیں مختلف ہو سکتی ہیں، تاہم ان کی منزل اور قومی شناخت ایک ہے۔انہوں نے کہا، ’’ہم مختلف راستوں سے آئے ہوں گے، لیکن ہماری منزل ایک ہے۔ ہماری بہت سی شناختیں ہو سکتی ہیں، لیکن ہماری قومی شناخت ایک ہے۔
سنہا نے کہا کہ ہندوستان اور جموں و کشمیر ’’ایک اور ناقابلِ تقسیم‘‘ہیں اور ترقی کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے۔انہوں نے عوام بالخصوص نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ حوصلے کے ساتھ چیلنجز کا سامنا کریں اور اجتماعی کوششوں سے جموں و کشمیر اور ہندوستان کے لیے ایک نیا باب رقم کریں۔لیفٹیننٹ گورنر نے تقریب کے انعقاد میں شامل جموں و کشمیر پولیس اور دیگر افسران کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس ایونٹ میں ہر سال شرکاء کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں