ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

عدالت عظمیٰ نے گیانیش کمار کی معطلی سے متعلق درخواست مسترد کر دی، مرکز اور تینوں الیکشن کمشنرز کو نوٹس جاری

نئی دہلی/چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کے خلاف دائر عرضیوں پر سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی۔ اس معاملے میں بحث کے بعد سپریم کورٹ نے سی ای سی گیانیش کمار کی معطلی کا مطالبہ مسترد کر دیا۔ ان کے خلاف دائر عرضیوں میں ایس آئی ٹی تحقیقات کا مطالبہ اور ایس آئی آر کو غیرقانونی قرار دیے جانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے میں مرکزی حکومت، تینوں الیکشن کمشنرز، کابینہ سکریٹری، سینئر ڈپٹی الیکشن کمشنر (ڈی ای سی) منیش گرگ، آئی ٹی ہیڈ سیما کھنہ کو نوٹس جاری کیا ہے۔
عرضی گزار کے وکیل وکاس سنگھ نے عدالت میں کہا کہ الیکشن کمشنرز کی تقرری اور ان کے اختیارات کو لے کر قانون میں اب تبدیلی کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’سی ای سی اور الیکشن کمشنرز پر ان کی مدت کار میں کیے گئے کاموں کے لیے کوئی مقدمہ نہیں ہو سکتا۔ انہیں اپنے کام کاج طریقۂ کار طے کرنا کا اختیار بھی دیا گیا ہے۔‘‘
وکاس سنگھ نے مزید کہا کہ ’’میں آج صرف اس بات پر بحث کر رہا ہوں کہ کس طرح الیکشن کمشنرز کو ایسا تحفظ فراہم کیا گیا ہے، جو وزیر اعظم تک کو نہیں ہے۔ میرا مطالبہ ہے کہ سی ای سی کو معطل کیا جائے۔‘‘ اس پر عدالت نے پوچھا کہ کمیشن کام کیسے کرے گا؟ عرضی گزار کے وکیل نے کہا کہ ’’2 الیکشن کمشنرز کام کر لیں گے۔‘‘ اس کے بعد عدالت نے کہا کہ ’’ہمیں آپ کی عرضی دیکھنی ہوگی۔‘‘ وکیل وکاس سنگھ نے کہا کہ ’’کم از کم یہ حکم دیا جائے کہ جب تک یہاں سماعت زیر التو ہے تب تک متفقہ طور پر فیصلے ہوں۔‘‘ اس پر عدالت نے کہا کہ کوئی بھی کام قانون کے دائرے میں ہی ہوگا۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ ’’اس بارے میں قانون ہے۔ ہمیں امید ہے کہ اس کے مطابق ہی کام ہو رہا ہے اور ہوگا۔ 10 دن میں کچھ ایسا نہیں ہو جائے گا۔ اگر کچھ غلط ہوا تو ہم ہمیشہ اسے منسوخ کر سکتے ہیں۔ ہم عرضی پر نوٹس جاری کر رہے ہیں۔ اس عرضی کی بنیاد جو نیوز رپورٹ ہے، وہ 100 فیصد درست، جزوی طور پر صحیح یا غلط ہو سکتی ہے۔ ہم اس کی بنیاد پر کوئی حکم نہیں دے سکتے ہیں۔‘‘

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں