ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف داخل عرضیوں پر عدالت عظمیٰ میں سماعت آج

نئی دہلی/عدالت عظمیٰ آج (5 اکتوبر) چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو معطل کرنے اور الیکشن کمیشن کے فیصلہ لینے کے طریقۂ کار کو چیلنج کرنے والی عرضیوں پر سماعت کرنے والی ہے۔ پیر کو سپریم کورٹ جب ان دونوں معاملات پر سماعت کرے گا، تو پورے ملک کی نگاہیں اس طرف ہوں گی۔ اس دوران ملک کے مختلف حصوں میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاجوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ دہلی کے جنتر منتر پر این ایس یو آئی گزشتہ 3 دنوں سے احتجاج کر رہی ہے۔ پیر کو بھی جنتر منتر پر این ایس یو آئی احتجاج کرنے والی ہے۔
چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا کی بنچ راکیش کمار سنگھ اور وکیل شیلیندر منی ترپاٹھی کی عرضیوں پر پیر کو سماعت کرے گی۔ ان عرضیوں میں اپنے ساتھی الیکشن کمشنرز کی منظوری کے بغیر لیے گئے فیصلوں، رہنما خطوط اور سافٹ ویئر میں کی گئی تبدیلیوں کو چیلنج کیا گیا ہے۔ پٹنہ کے راکیش کمار سنگھ نے یہ مفاد عامہ کی عرضی (پی آئی ایل) دائر کی ہے اور اس میں سپریم کورٹ سے یہ طے کرنے کی درخواست کی گئی ہے کہ کیا گیانیش کمار اکیلے ان اختیارات کا استعمال کر سکتے ہیں جو قانونی طور پر پورے الیکشن کمیشن کے پاس ہیں۔
اس میں ’الیکشن کمیشن کی کثیر رکنی حیثیت‘ کو برقرار رکھنے کے لیے عرضی کی حتمی سماعت تک گیانیش کمار کو معطل کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ عرضی میں مرکزی وزارت قانون، الیکشن کمیشن، گیانیش کمار، وویک جوشی، سکھبیر سندھو اور الیکشن کمیشن کے سینئر افسر منیش گرگ کو فریق بنایا گیا ہے۔
ایک دوسری عرضی میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور دیگر افسران کے خلاف فرائض میں کوتاہی برتنے پر فوجداری کارروائی شروع کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ترپاٹھی نے ’چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنرز ایکٹ، 2023‘ کی دفعات کا حوالہ دیا ہے۔ انہوں نے ایکٹ کی دفعہ 18 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر رائے میں اختلاف ہو تو اکثریت کی رائے تسلیم کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی، فارم 6 کے استعمال کو لے کر بھی سوال اٹھایا گیا ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں