ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

کم وسائل، زیادہ پیداوار؛ جدید ٹیکنالوجی اپنانا ناگزیر: ایل جی سنہا

سری نگر/جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے زراعت اور باغبانی کو درپیش ابھرتے ہوئے چیلنجز، بالخصوص موسمیاتی تبدیلی، محدود وسائل اور پائیداری کے مسائل سے نمٹنے کے لیے ’’مصنوعی ذہانت (AI) اور انسانی ذہانت کے درمیان ہم آہنگیُُپر زور دیا ہے۔
شالیمار کنونشن سینٹر، سکاسٹ کشمیر میں ’’AI and Robotics for Gen-Z Farming‘‘کے موضوع پر منعقدہ بین الاقوامی سمپوزیم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایل جی سنہا نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اور انسانی ذہانت کو مل کر کام کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ایسی اختراعات اور ٹیکنالوجی کو فروغ دینے کی ضرورت ہے جو کسانوں اور مجموعی طور پر معاشرے کے لیے فائدہ مند ثابت ہوں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ زراعت کو درپیش موجودہ چیلنجز کا مقابلہ ماضی کے روایتی طریقوں اور آلات سے نہیں کیا جا سکتا، اس لیے کم وسائل استعمال کرتے ہوئے پیداوار بڑھانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کو اپنانا وقت کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا، ’’محدود وسائل کے ساتھ ہم زیادہ پیداوار حاصل نہیں کر سکتے۔ ہمیں یہ تلاش کرنا ہوگا کہ زراعت کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے کیسے محفوظ رکھا جائے اور زراعت و باغبانی کو پائیدار کیسے بنایا جائے۔‘‘
ایل جی سنہا نے امید ظاہر کی کہ بین الاقوامی سمپوزیم کے ذریعے مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور دیگر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کی مدد سے زراعت کے لیے مؤثر اور عملی حل تلاش کرنے میں مدد ملے گی۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر زراعت کے مستقبل پر غور و خوض کے لیے ایک موزوں مقام ہے، کیونکہ خطے میں زراعت کی قدیم اور مضبوط روایات موجود ہیں، جبکہ یہاں کے کسان نسلوں سے مختلف چیلنجز کا سامنا کرتے آئے ہیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے زراعت میں خواتین کے اہم کردار کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ خواتین کی قیادت میں ہونے والی انجینئرنگ اختراعات کو محض مباحثوں تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں عملی حل میں تبدیل کیا جانا چاہیے۔انہوں نے لیبر فورس کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دیہی علاقوں کی ایک بڑی تعداد میں خواتین زراعت سے وابستہ ہیں، تاہم بہت سی خواتین اب بھی مناسب معاوضے کے بغیر زرعی شعبے میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔
ایل جی سنہا نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اسمارٹ فارمنگ، مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس سے متعلق جدید اختراعات ’’جامع اور چھوٹے و معمولی کسانوں کے ساتھ ساتھ زراعت سے وابستہ خواتین کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے‘‘ہونی چاہئیں۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں