امریکا محض مستقبل میں جوہری پروگرام محدود کرنے کی یقین دہانیوں پر اکتفا نہیں کرے گا بلکہ ایران سے واضح اور قابلِ عمل اقدامات چاہتا ہے۔
جنگ ختم کرنے کیلئے ایران کو جوہری پروگرام پر ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے، امریکا
امریکا نے ایران کے ساتھ جاری جنگ کے خاتمے کے لیے تہران سے یورینیم افزودگی میں نمایاں کمی اور جوہری پروگرام سے متعلق عملی اقدامات کا مطالبہ کردیا۔
واشنگٹن میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے رائٹرز کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کہا کہ امریکا محض مستقبل میں جوہری پروگرام محدود کرنے کی یقین دہانیوں پر اکتفا نہیں کرے گا بلکہ ایران سے واضح اور قابلِ عمل اقدامات چاہتا ہے۔
جے ڈی وینس کے مطابق اگر ایران جوہری ہتھیار بنانے کا ارادہ نہیں رکھتا تو اسے 60 فیصد تک افزودہ ایندھن کی ضرورت کی وضاحت کرنا ہوگی اور انتہائی افزودہ مواد کی تیاری روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے۔
امریکی نائب صدر نے بتایا کہ واشنگٹن ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے، تاہم ان کے بقول یہ واضح نہیں کہ ایرانی نظام میں حتمی فیصلے کس سطح پر کیے جاتے ہیں۔
جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکا معاہدے کے لیے تیار ہے، تاہم ایران کو اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے ٹھوس جواب دینا ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز میں ایرانی فورسز بعض اوقات تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہیں، تاہم وہ بڑے پیمانے پر توانائی کی برآمدات روکنے میں کامیاب نہیں ہوسکیں۔
امریکی نائب صدر کے مطابق ایران کے ساتھ جنگ پر امریکا کو ہر ماہ تقریباً 3 ارب ڈالر خرچ کرنا پڑ رہے ہیں، جبکہ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ٹرمپ انتظامیہ اور ریپبلکن پارٹی کے لیے نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل سیاسی دباؤ کا باعث بن رہا ہے۔
2028 کے صدارتی انتخابات میں ممکنہ طور پر حصہ لینے کے سوال پر جے ڈی وینس نے کہا کہ انہوں نے اس حوالے سے ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا۔