اتر پردیش کے متھرا میں ایک دردناک حادثہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں 4 طلباء کی موت ہو گئی۔ یہ معاملہ ورنداون کے چیتنیہ وہار سیکٹر-2 میں واقع پاننی سنسکرت گروکلم کا ہے۔ واضح رہے کہ 6 اکتوبر کی رات تقریباً 10 بجے پانی ٹنکی کی صفائی کے دوران زہریلی گیس اور ڈوبنے کی وجہ سے 4 طلباء کی موت ہوئی۔ وہیں ایک دیگر طالب علم کو بچا لیا گیا، اور وہ اسپتال میں زیر علاج ہے۔ اطلاع کے مطابق ہلاک ہونے والے طلباء کی عمر 17 سے 20 برس کے درمیان بتائی گئی ہے۔ حادثے کے بعد انتظامیہ اور پولیس ٹیم موقع پر پہنچی اور تفتیش شروع کر دی۔
ضلع مجسٹریٹ چندر پرکاش سنگھ کے مطابق گروکلم احاطے میں واقع زیر زمین پانی کی ٹنکی سے بدبو آ رہی تھی۔ اس کے بعد طلباء نے ٹنکی کی صفائی کرنے کا فیصلہ کیا۔ ٹنکی تقریباً 12 سے 14 فٹ گہری تھی۔ سب سے پہلے موٹر کی مدد سے ٹنکی سے پانی باہر نکالا گیا۔ جب کچھ پانی باقی رہ گیا تو طلباء اندر اتر کر صفائی کرنے لگے۔ چندر پرکاش سنگھ نے مزید بتایا کہ پورے معاملے کی مجسٹریٹ جانچ کرائی جائے گی۔ تفتیش میں یہ معلوم کیا جائے گا کہ حادثہ کن حالات میں پیش آیا، گروکلم کو ضروری منظوری حاصل تھی یا نہیں اور طلباء کو پانی ٹنکی صاف کرنے کے لیے کن حالات میں اندر بھیجا گیا۔ انہوں نے کہا کہ علاقے میں چلنے والے دیگر گروکلموں کا بھی دوبارہ معائنہ اور آڈٹ کرایا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی وہاں کی عمارتوں اور حفاظتی انتظامات کی بھی جانچ کی جائے گی، تاکہ مستقبل میں اس طرح کے حادثات کو روکا جا سکے۔
سب سے پہلے ایک طالب علم ٹنکی کے اندر گیا، لیکن کچھ ہی دیر بعد وہ بے ہوش ہو گیا۔ خدشہ ہے کہ ٹنکی کے اندر موجود زہریلی گیس کی وجہ سےطالب علم کی طبیعت بگڑی۔ اسے بچانے کے لیے 4 دیگر طلباء بھی ایک ایک کر کے ٹنکی کے اندر چلے گئے۔ اس کے بعد پانچوں طلبہ بے ہوش ہو گئے۔ حادثے کے بعد موقع پر موجود لوگوں نے پانچوں طلباء کو باہر نکالا اور فوری طور پر ضلع اسپتال میں داخل کرایا، لیکن سبھی بچوں کو بہتر علاج کے لیے ریفر کر دیا گیا۔
سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس شلوک کمار نے بتایا کہ سبھی لاشوں کو ضلع اسپتال مردہ خانے میں رکھوایا گیا ہے۔ پولیس اہلکار اہل خانہ سے رابطہ کرکے حادثے کی اطلاع دے رہے ہیں۔ وہیں زخمی طالب علم رودر ہوش میں ہے اور بات کر رہا ہے۔ پولیس نے طلباء کو ٹنکی سے باہر نکال کر اسپتال پہنچایا، لیکن ڈاکٹروں نے منو کٹارے (20 سال)، دیوانش (17 سال)، ویشو (18 سال) اور آرین (18 سال) کو مردہ قرار دے دیا۔ رودراکش (18) کی حالت فی الحال ٹھیک ہے۔ منو اور دیوانش مدھیہ پردیش کے جبل پور اور ودیشا کے رہنے والے تھے، جبکہ آرین کوشامبی اور ویشو میرٹھ کا رہنے والا تھا۔
ریاستی وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو بھی واقعے کی اطلاع دی گئی ہے۔ ضلع مجسٹریٹ کے مطابق وزیر اعلیٰ نے فوری طور پر حادثے کا نوٹس لیتے ہوئے راحت رسانی کا کام یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ زخمی طالب علم کو بہتر علاج فراہم کرانے کی ہدایت دی ہے۔ پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج کی بھی جانچ شروع کر دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ متوفی طلباء کے اہل خانہ کی جانب سے موصول ہونے والی شکایت کی بنیاد پر مزید قانونی کارروائی کی جائے گی۔ اس حادثے نے گروکلم طلباء کی حفاظت اور پانی ٹنکیوں کی صفائی جیسی سرگرمیوں میں برتی جانے والی احتیاط تدابیر پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ تفتیش کے بعد ذمہ داری طے کی جائے گی اور حفاظتی معیار میں لاپروائی ثابت ہونے پر کارروائی کی جائے گی۔