نئی دہلی/بھارتی ریزرو بینک نے بڑھتی ہوئی مہنگائی، خام تیل کی بلند قیمتوں اور کمزور ہوتی بھارتی کرنسی کے پیش نظر ریپو ریٹ میں 25 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کرتے ہوئے اسے 5.25 فیصد سے بڑھا کر 5.5 فیصد کر دیا ہے۔یہ فروری 2023 کے بعد ریپو ریٹ میں پہلا اضافہ ہے۔ شرح سود میں اضافے کا فیصلہ گورنر سنجے ملہوترا کی سربراہی میں مانیٹری پالیسی کمیٹی (MPC) نے متفقہ طور پر کیا۔
آر بی آئی گورنر سنجے ملہوترا نے مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر مہنگائی میں اضافہ متوقع ہے، جبکہ تجارتی غیر یقینی صورتحال برقرار ہے اور عالمی معاشی ماحول بھی کمزور ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران جنگ کے اثرات تجارت اور سپلائی چین کو متاثر کر سکتے ہیں۔گورنر نے تاہم کہا کہ بھارتی معیشت مضبوط ہے اور اس میں عالمی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت برقرار ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ قریبی مدت میں شرح سود میں کمی کا امکان نہیں ہے۔
آر بی آئی نے 2018 کے بعد پہلی مرتبہ اپنی مانیٹری پالیسی کا مؤقف ’’نیوٹرل‘‘ سے تبدیل کرکے ’’کیلِبریٹڈ ٹائٹننگ‘‘ یعنی مرحلہ وار سخت مالیاتی پالیسی کر دیا ہے۔نیوٹرل پالیسی کا مطلب ہے کہ مرکزی بینک مہنگائی اور اقتصادی ترقی کی صورتحال کے مطابق شرح سود میں کمی یا اضافہ دونوں کے لیے تیار رہتا ہے، جبکہ ’’کیلِبریٹڈ ٹائٹننگ‘‘ سے ظاہر ہوتا ہے کہ آر بی آئی مہنگائی پر قابو پانے کے لیے سخت پالیسی کی جانب بڑھ رہا ہے۔
اس تبدیلی سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ مستقبل قریب میں شرح سود میں کمی کے امکانات کم ہیں، جبکہ مہنگائی کے دباؤ میں مزید اضافہ ہونے کی صورت میں دوبارہ شرح سود بڑھانے کا امکان بھی موجود ہے۔آر بی آئی نے رواں مالی سال کے لیے بنیادی مہنگائی (Core Inflation) کی پیش گوئی بھی 4.3 فیصد سے بڑھا کر 4.4 فیصد کر دی ہے۔
شرح سود میں اضافے کے باوجود آر بی آئی نے ملکی اقتصادی ترقی کے حوالے سے اپنے اندازے میں بہتری کی ہے۔ مرکزی بینک نے رواں مالی سال کے لیے حقیقی جی ڈی پی کی شرح نمو کا تخمینہ 6.7 فیصد سے بڑھا کر 7.1 فیصد کر دیا ہے۔آر بی آئی کے مطابق جولائی سے ستمبر کے دوران اقتصادی سرگرمیوں میں رفتار برقرار رہی۔ مینوفیکچرنگ شعبہ بڑھتی ہوئی لاگت کے باوجود مستحکم رہا، جبکہ سروسز سیکٹر میں بھی وسیع پیمانے پر سرگرمیاں جاری رہیں۔مرکزی بینک نے کہا کہ فکسڈ انویسٹمنٹ میں بھی مضبوطی برقرار ہے اور نجی کھپت و سرمایہ کاری اقتصادی ترقی کے اہم محرکات رہیں گے۔ نیٹ ایکسپورٹ بھی مثبت رہی ہے۔
تاہم، نان ڈورایبل اشیا اور اندرونِ ملک فضائی ٹریفک میں کمزوری کو آر بی آئی نے تشویش کا باعث قرار دیا ہے۔ سپلائی چین میں رکاوٹیں بھی اقتصادی ترقی کو متاثر کر سکتی ہیں۔ کمزور مانسون اور ممکنہ ایل نینو کے باعث ربیع کی فصل بھی متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔اس کے باوجود آر بی آئی نے کہا کہ دیہی اور شہری علاقوں میں طلب برقرار رہنے کی توقع ہے۔