سری نگر/جموں و کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے بدھ کے روز کہا کہ ان کی وزراء کونسل میں توسیع کے حوالے سے فیصلہ دہلی سے واپسی اور نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ سے مشاورت کے بعد متوقع ہے۔سری نگر میں ایک تقریب کے موقع پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نےکہا کہ حکومت جی ایس ٹی کونسل کے اجلاس کے بعد کابینہ میں توسیع کے معاملے پر فیصلہ کرے گی اور اس سلسلے میں پارٹی صدر سے بھی مشاورت کی جائے گی۔
حالیہ انتظامی تبدیلیوں کے حوالے سے وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ بعض تبادلے منتخب حکومت کی جانب سے کیے گئے، جبکہ کچھ تبادلے لیفٹیننٹ گورنر کی جانب سے عمل میں لائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مختلف محکموں میں تعینات افسران کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔
سرکاری میڈیکل کالجز (جی ایم سی) کے زیرِ التوا بھرتی قواعد کے بارے میں عمر عبداللہ نے کہا کہ قواعد تقریباً تیار ہیں اور انہیں حتمی شکل دی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پہلے مرتب کیے گئے قواعد اور مجوزہ قواعد میں کچھ تضادات تھے، جنہیں دور کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق حکومت اس عمل میں جلد بازی نہیں کرنا چاہتی تاکہ بعد میں قواعد کے نفاذ کے دوران مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جی ایم سی کے بھرتی قواعد جلد ہی نوٹیفائی کیے جانے کی توقع ہے۔
کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کے حوالے سے عمر عبداللہ نے کہا کہ حکومت ایک ساتھ کھیلوں کی سہولیات میں توسیع کرنے کے ساتھ ساتھ کوچز کی تقرری بھی کر رہی ہے تاکہ جموں و کشمیر کے نوجوان کھلاڑیوں کو بہتر تربیتی مواقع فراہم کیے جا سکیں۔انہوں نے بتایا کہ کشمیر میں اولمپک معیار کا سوئمنگ پول قائم کیا گیا ہے اور اسے سال بھر تربیت کے لیے قابلِ استعمال بنانے کی خاطر شمسی توانائی سے چلنے والے ہیٹنگ سسٹم کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ایک انڈور جمناسٹک ہال کا بھی افتتاح کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق کشمیر کے بچوں میں جمناسٹک کے کھیل میں دلچسپی موجود ہے، تاہم انہیں مناسب بنیادی ڈھانچے کی کمی کا سامنا تھا۔عمر عبداللہ نے کہا کہ حکومت کرکٹ، فٹ بال، ہاکی اور والی بال جیسے روایتی کھیلوں سے آگے بڑھتے ہوئے بچوں کو مزید کھیلوں کے مواقع اور متبادل فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
وزیرِ اعظم نریندر مودی کی عوامی زندگی کے 25 سال مکمل ہونے کے حوالے سے عمر عبداللہ نے کہا کہ اتنے طویل عرصے تک مسلسل انتخابات جیتنا آسان نہیں ہوتا۔انہوں نے کہا، ’’میں اپنی اور اپنے ساتھیوں کی جانب سے انہیں مبارکباد پیش کرتا ہوں۔‘‘
چیف الیکشن کمشنر سے متعلق احتجاج کے بارے میں عمر عبداللہ نے سوال اٹھایا کہ اگر ’’دی انڈین ایکسپریس‘‘کی رپورٹ غلط یا من گھڑت تھی تو حکومت نے اس کے خلاف ہتکِ عزت کی کارروائی کیوں نہیں کی۔انہوں نے کہا کہ اگر رپورٹ درست نہ ہوتی تو حکومت کو کم از کم اخبار کے خلاف ہتکِ عزت کا مقدمہ دائر کرنا چاہیے تھا۔عمر عبداللہ نے کہا کہ جاری احتجاج دراصل انڈیا بلاک کے رہنماؤں کی جانب سے دہلی میں ہونے والے حالیہ اجلاس کے بعد اعلان کردہ پروگرام کا حصہ ہیں۔
جموں و کشمیر میں انتخابی فہرستوں کی مجوزہ اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کے بارے میں عمر عبداللہ نے کہا کہ اس مشق کو انتخابات میں مداخلت کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے سابقہ حد بندی کے عمل کا حوالہ دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اس کا مقصد بی جے پی کو فائدہ پہنچانا تھا۔انہوں نے کہا، ’’ہم پہلے ہی ایسی مداخلت کا شکار ہو چکے ہیں۔ ہم ابھی تک حد بندی کو نہیں بھولے ہیں۔‘‘وزیرِ اعلیٰ نے امید ظاہر کی کہ سپریم کورٹ میں جاری کارروائی، خصوصاً فارم 6 سے متعلق معاملہ، انتخابی فہرستوں سے لوگوں کے نام خارج کرنا مزید مشکل بنا دے گا۔