نئی دہلی/مرکزی وزارتِ صحت و خاندانی بہبود نے تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں (یو ٹیز) سے کہا ہے کہ وہ اسپتالوں میں فراہم کی جانے والی طبی خدمات اور دستیاب سہولیات کے نرخ نمایاں مقامات پر آویزاں کرنے کو یقینی بنائیں، تاکہ مریضوں اور ان کے تیمارداروں کو علاج کے اخراجات سے متعلق واضح اور قابلِ رسائی معلومات حاصل ہو سکیں۔
مرکزی سیکریٹری صحت پنیا سلیلا سری واستو نے تمام ریاستوں اور یو ٹیز کے چیف سیکریٹریوں کو خط لکھ کر متعلقہ ضابطوں پر عمل درآمد کا جائزہ لینے اور اس بات کو یقینی بنانے کی اپیل کی ہے کہ طبی خدمات کے نرخ واضح طور پر نظر آنے والے مقامات پر درج ہوں اور مریضوں و ان کے تیمارداروں کو آسانی سے دستیاب ہوں۔
مرکزی سیکریٹری صحت نے طبی خدمات کی قیمتوں میں شفافیت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ نرخ نمایاں طور پر آویزاں ہونے سے مریضوں اور ان کے اہل خانہ کو علاج پر آنے والے ممکنہ اخراجات سمجھنے، باخبر فیصلے کرنے اور طبی اخراجات کی منصوبہ بندی میں مدد ملے گی۔ اس کے علاوہ شفافیت سے غیر ضروری الجھنوں اور بلوں سے متعلق تنازعات میں کمی آئے گی اور صحت کے نظام پر عوام کا اعتماد مضبوط ہوگا۔
خط میں کلینیکل اسٹیبلشمنٹس (رجسٹریشن اینڈ ریگولیشن) ایکٹ 2010 اور کلینیکل اسٹیبلشمنٹس (مرکزی حکومت) رولز 2012 کا حوالہ دیا گیا ہے، جن کے تحت متعلقہ طبی اداروں کے لیے ضابطہ جاتی فریم ورک مقرر کیا گیا ہے۔
ان قواعد کے مطابق، جن ریاستوں اور یو ٹیز میں یہ قانون نافذ ہے، وہاں کلینیکل اداروں کے لیے ضروری ہے کہ فراہم کی جانے والی ہر قسم کی خدمات اور دستیاب سہولیات کے نرخ نمایاں مقام پر مقامی زبان اور انگریزی میں آویزاں کیے جائیں، تاکہ مریضوں اور ان کے تیمارداروں کو معلومات حاصل کرنے میں دشواری نہ ہو۔
جن ریاستوں اور یو ٹیز میں یہ قانون نافذ نہیں ہے، وہاں طبی ادارے متعلقہ ریاستی یا یو ٹی قوانین کے تحت منضبط کیے جاتے ہیں۔ ان میں سے کئی قوانین میں بھی طبی خدمات اور سہولیات کے نرخ آویزاں کرنے سے متعلق دفعات شامل ہیں۔
چونکہ صحت کا شعبہ ریاستی دائرۂ اختیار میں آتا ہے اور متعلقہ ضابطوں پر عمل درآمد اور ان کی نگرانی کی ذمہ داری ریاستوں اور یو ٹیز پر عائد ہوتی ہے، اس لیے مرکزی سیکریٹری صحت نے چیف سیکریٹریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ متعلقہ حکام کے ذریعے ان ہدایات پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنائیں۔
مرکزی حکومت نے بیرونِ ملک سے بھارت آنے والے مریضوں کے لیے بھی علاج کے اخراجات میں شفافیت کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ ریاستوں اور یو ٹیز سے کہا گیا ہے کہ جہاں قابلِ اطلاق ہو، وہاں میڈیکل یا آیوش ویزا پر بھارت آنے والے غیر ملکی مریضوں کے لیے علاج کے پیکیج نرخ نمایاں طور پر آویزاں کرنے کی حوصلہ افزائی کی جائے۔
اس اقدام کا مقصد غیر ملکی مریضوں کو علاج کے انتخاب میں باخبر فیصلے کرنے میں مدد دینا، قیمتوں اور بلوں سے متعلق شکایات کم کرنا اور طبی و آیوش علاج کے لیے بھارت کو ایک قابلِ اعتماد منزل کے طور پر مزید مستحکم کرنا ہے۔
مرکزی سیکریٹری صحت نے چیف سیکریٹریوں سے اس معاملے پر خصوصی توجہ دینے کی درخواست کرتے ہوئے کہا ہے کہ متعلقہ حکام اور کلینیکل اداروں کو ضروری ہدایات جاری کی جائیں، تاکہ طبی خدمات کے نرخ ضابطوں کے مطابق ایسے مقامات پر آویزاں کیے جائیں جہاں انہیں واضح طور پر دیکھا اور آسانی سے حاصل کیا جا سکے۔
حکومت کے مطابق، یہ اقدام صحت خدمات کو زیادہ شفاف، جواب دہ اور مریضوں کی ضروریات کے مطابق بنانے کے عزم کا حصہ ہے، تاکہ علاج کے اخراجات سے متعلق واضح معلومات تک رسائی مریضوں پر مرکوز طبی سہولیات کا لازمی جزو بن سکے۔