ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

’نوجوانوں کو جیل میں ڈالنا بزدلانہ عمل‘، راہل گاندھی کے بیان پر ابھجیت دپکے نے کہا ’تھینک یو، لیڈر آف اپوزیشن‘

دہلی کے جنتر منتر پر روک کے باوجود کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے چیف ترجمان سورو داس اور آشوتوش رانکا منگل (13 اکتوبر) کی صبح وہاں پہنچے اور ترنگا لہرا کر احتجاج درج کرایا۔ اس کے بعد پولیس نے دونوں کے ساتھ ساتھ دیگر اراکین کو بھی حراست میں لے لیا تھا۔ آج ان کو 5 دن کی عدالتی حراست میں بھیج دیا گیا ہے۔ اس پر لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس رہنما راہل گاندھی نے سوال اٹھایا ہے۔

کانگریس رہنما راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’جنتر منتر پر پرامن احتجاج کے دوران ترنگا لہرانا کوئی جرم نہیں ہے۔ اس کے لیے نوجوانوں کو جیل میں ڈالنا بزدلانہ عمل ہے۔ طلبہ، نوجوان، صحافی اور انڈیا اتحاد۔ بینر الگ الگ ہیں، لیکن مقصد ایک ہے۔ تمام احتجاج ایک ہی ہیں، شہری اپنے آئینی حقوق کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ جنتر منتر ہندوستان کے عوام کا ہے۔ ہم اسے واپس لے کر رہیں گے۔‘‘ راہل گاندھی کی ’ایکس‘ پوسٹ پر ابھجیت دپکے نے لکھا کہ ’’حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی سر، آشوتوش رانکا اور سورو داس کی غیر قانونی گرفتاری کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے آپ کا شکریہ۔‘‘

اس سے قبل ابھجیت دپکے نے انڈیا اتحاد کے احتجاج پر کہا کہ ہم سب کا ایک ہی مقصد ہے چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کے خلاف لڑنا۔ سی جے پی ایک ’انڈیپنڈنٹ پریشر گروپ‘ ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم انڈیا اتحاد کے خلاف ہیں۔ دپکے نے ناگپور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے سی جے پی لیڈران کو جیل بھیجے جانے پر کہا کہ ’’میں وزیر اعظم مودی سے کہنا چاہتا ہوں کہ اگر آپ ملک میں ایمرجنسی لگانا چاہتے ہیں تو اعلانیہ طور پر لگائیں۔ آپ غیر اعلانیہ ایمرجنسی کیوں چلا رہے ہیں، جہاں لوگوں کو صرف جنتر منتر پر قومی جھنڈا لہرانے پر 5 دن کی حراست میں بھیج دیا جاتا ہے؟‘‘

ابھجیت دپکے نے وزیر اعظم مودی کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ ’’اگر آپ میں دَم ہے تو ایمرجنسی کا آفیشیلی اعلان کریں۔ یہ لوگ بہت ڈرپوک ہیں جو پولیس کے پیچھے چھپے ہیں۔ کل سے سورو، آشوتوش اور اجنکیا کو غیر قانونی طریقے سے حراست میں رکھا گیا تھا اور انہیں اپنے وکیلوں سے بھی نہیں ملنے دیا گیا۔ آج صبح سورو اور آشوتوش کو 5 دن کی عدالتی حراست میں بھیج دیا گیا۔ ان کا جرم کیا تھا۔‘‘

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں