ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

’کوئی بچے گا نہیں‘، دہلی میں احتجاج کے دوران پولیس کی بربریت کے شکار طلبہ سے راہل گاندھی کا وعدہ

لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس رہنما راہل گاندھی نے دہلی میں احتجاج کے دوران حراست میں لیے گئے طلبہ کے ساتھ پریس کانفرنس کی۔ اس دوران طلبہ نے دہلی پولیس پر مار پیٹ اور بربریت کے سنگین الزامات عائد کیے۔ طلبہ نے دعویٰ کیا کہ احتجاج کے دوران انہیں حراست میں لے کر بسوں میں بھرا گیا اور تھانے میں لے جا کر پیٹا گیا۔ کچھ طلبہ نے الزام عائد کیا کہ کچھ پولیس اہلکاروں نے انہیں دھمکایا اور ان کے ساتھ توہین آمیز سلوک کیا۔ راہل گاندھی نے طلبہ کی باتیں سنیں اور ان سے کہا کہ وہ اپنے پاس موجود ویڈیو اور دوسرے ثبوت شیئر کریں۔

راہل گاندھی نے طلبہ کے ساتھ پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ’’امت شاہ جی، دھیان سے دیکھ لیجے، یہ ہندوستان ہے۔ یہاں نہ کوئی ہندو ہے، نہ مسلم، نہ مرد ہے، نہ عورت اور نہ کوئی ذات۔ یہاں صرف ایک آواز ہے، ایک احتجاج ہے، یہ ہندوستان ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’نریندر مودی اور امت شاہ آپ دونوں اس آواز کے سامنے کھڑگے مت ہوئیے، کیونکہ اس کے سامنے کوئی کھڑا نہیں ہو سکتا۔ میں تمام نوجوانوں اور طلبہ سے کہہ رہا ہوں کہ آپ بطور ثبوت ویڈیو محفوظ رکھیے۔ جب یہ معاملہ ختم ہو جائے گا، تب ہم ان ثبوتوں کا استعمال کریں گے اور اوپر سے لے کر نیچے تک سب کو سزا دلائیں گے۔ کوئی بچے گا نہیں۔‘‘

راہل گاندھی نے مزید کہا کہ ’’ایک احتجاج ہے، ایک آواز ہے اور یہ ملک کی آواز ہے، جسے دبانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ اس معاملے میں کیسے ایف آئی آر کرانی ہے، کیسے دباؤ ڈالنا ہے، وہ سب ہمارا کام ہے۔ اس کی کسی کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ کانگریس لیڈر نے یہ بھی کہا کہ ’’میں نے پریس کانفرنس میں صحافیوں سے پوچھا کہ آپ میں سے کتنے لوگ سوچتے ہیں کہ نریندر مودی صحیح کہہ رہے ہیں؟ وہاں کسی صحافی نے ہاں میں جواب نہیں دیا اور بلا خوف سچائی ملک کو دکھا دی۔‘‘

پریس کانفرنس کے دوران ایک طالب علم نے کہا کہ ’’میرا نام سمرتھ ہے۔ ہم لوگ 4 اکتوبر سے پرامن طریقے سے احتجاج کر رہے تھے اور 5 اکتوبر کو حراست میں لیا گیا۔ پھر ہمیں پارلیمنٹ پولیس اسٹیشن لے جا کر وہاب سنگھ تومر نام کے پولیس اہلکار کے ساتھ 20 پولیس والوں نے بری طرح مارا۔ اس کے بعد ہمیں پیچھے کے راستے سے نکالا گیا اور پارلیمنٹ پولیس اسٹیشن سے دہلی کینٹ تک کانسٹیبل انکت کسانا مارتے لے گیا۔ جب میرے ساتھ دھرمیندر نے کہا کہ انہیں الٹی آ رہی ہے تو پولیس والوں نے کہا کہ اپنا بیگ کھولو اور اسی میں الٹی کرو۔‘‘

دھرمیندر نام کے طالب علم نے کہا کہ ’’پولیس اہلکاروں نے ہم سے کہا کہ بولو دہلی پولیس تمہارے پاپا ہیں۔ ہمیں بہت مارا گیا، ہم سے انکس کسانا نام کے ایک پولیس والے نے کہا کہ بلا لے اپنے نیتا کو، تمہیں کوئی بچانے نہیں آئے گا۔‘‘ دھرمیندر نے یہ بھی کہا کہ ’’ہم پھر احتجاج میں جائیں گے، لیکن ناانصافی کے خلاف جھکیں گے نہیں، لڑیں گے اور جیتیں گے۔‘‘ ساتھ ہی اس نے کہا کہ ’’میں کئی روز سے خاموش تھا، رو رہا تھا… لیکن جب میں راہل گاندھی جی سے ملا ہوں، تب سے میرے چہرے پر خوشی ہے کیونکہ انہوں نے مجھ سے کہا کہ ڈرنا نہیں ہے، تم ہمارے شیر ہو۔ مجھے جب حراست میں لیا گیا تو پولیس والوں نے ہمیں خوب مارا اور کہا کہ ایسا سبق سکھائیں گے کہ تم احتجاج کرنا بھول جاؤ گے لیکن میں اب ڈرنے والا نہیں ہوں۔‘‘

کانگریس نے’ایکس‘ ہینڈل پر پریس کانفرنس کی ایک ویڈیو شیئر کر لکھا کہ ’’یہ کانگریس کی شیرنی ہے، کسی سے ڈرے گی نہیں۔ کل دہلی میں این ایس یو آئی کے ساتھ ’ووٹ چوری‘ کے خلاف احتجاج کر رہی تھی، اس دوران پولیس نے ریتو برالا کو ڈیٹین کر لیا۔ اس کے بعد بس میں چنچل یادو نام کی خاتون کانسٹیبل نے ریتو کو بری طرح مارا۔ پھر تھانہ لے جا کر پیروں ڈنڈوں سے مارا گیا۔ دہلی پولس یاد رکھے ہم یہ بربریت بھولیں گے نہیں۔‘‘ کانگریس کے مطابق ریتو کا کہنا ہے کہ ’’آپ کو جتنا مارنا ہے مار لو، ہم ڈریں گے نہیں، ناانصافی کے خلاف لڑیں گے اور جیتیں گے۔‘‘

پریس کانفرنس کے دوران ادیرا نےکہا کہ ’’جب پولیس نے ہمیں حراست میں لیا تو بس میں کوئی خاتون پولیس اہلکار موجود نہیں تھی۔ ہم نے خاتون کانسٹیبل بھیجنے کا مطالبہ کیا، لیکن اس کے باوجود انہوں نے بس آگے بڑھا دی۔ پولیس اہلکاروں نے مجھے سڑک پر گھسیٹا۔ وہ مجھے بیسمنٹ میں لے گئے، وہاں میرے چہرے پر گھونسے مارے۔ انہوں نے میرے شرم گاہ اور پیٹ کے اوپری حصے پر بھی مارا۔ انہوں نے میرے ساتھ انسان یا عورت جیسا سلوک تک نہیں کیا۔‘‘ کانگریر کے مطابق دہلی یونیورسٹی کی طالبہ ادیرا کی شکایت ہے کہ پولیس نے ان کے ایک کان پر مارا، جس کے بعد اس کان سے ان کی قوت سماعت ختم ہو گئی۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں