بانڈی پورہ/شمالی ضلع بانڈی پورہ کے گریز علاقے میں ایک حاملہ خاتون کی اسپتال منتقلی میں مبینہ تاخیر کے بعد موت واقع ہوگئی، جبکہ اس کے بچے کی پیدائش مردہ حالت میں ہوئی۔ اہل خانہ نے الزام عائد کیا ہے کہ برف باری اور نقل و حرکت پر عائد پابندیوں کے باعث خاتون کو بروقت بانڈی پورہ اسپتال منتقل نہیں کیا جاسکا۔
متوفی خاتون کی شناخت حسینہ بیگم زوجہ شوکت حمید لون، ساکن مزگنڈ، علاقے تلیل گریز کے طور پر ہوئی ہے۔ اہل خانہ کے مطابق، منگل کی دیر شام خاتون کی طبیعت بگڑنے پر اسے سب سے پہلے پرائمری ہیلتھ سینٹر شیخ پورہ لے جایا گیا، تاہم وہاں مبینہ طور پر کوئی طبی عملہ موجود نہیں تھا۔ اس کے بعد خاتون کو سب ڈسٹرکٹ اسپتال (ایس ڈی ایچ) گریز منتقل کیا گیا۔
اہل خانہ نے بتایا کہ ایس ڈی ایچ گریز میں ڈاکٹروں نے خاتون کے خون میں کمی کی نشاندہی کرتے ہوئے مزید علاج کے لیے اسے ضلع اسپتال بانڈی پورہ منتقل کرنے کا مشورہ دیا۔
اہل خانہ کے مطابق، علاقے میں برف باری اور نقل و حرکت پر پابندیوں کے باعث وہ خاتون کو بانڈی پورہ لے جانے سے قاصر رہے۔
خاندان کے ایک فرد نے بتایا، ’’ہم سب سے پہلے اسے پی ایچ سی شیخ پورہ لے گئے، لیکن وہاں کوئی موجود نہیں تھا۔ اس کے بعد ہم اسے ایس ڈی ایچ گریز لے گئے، جہاں ڈاکٹروں نے بتایا کہ اس کے خون میں کمی ہے اور اسے بانڈی پورہ منتقل کرنا ضروری ہے۔‘‘
اہل خانہ نے مزید الزام لگایا کہ انہوں نے بارڈر روڈز آرگنائزیشن (بی آر او) کے تحت علاقے میں سڑکوں کی دیکھ بھال کرنے والے ادارے پروجیکٹ بیکن سے رابطہ کیا تھا، جہاں انہیں یقین دہانی کرائی گئی کہ ایمبولینس کے لیے سڑک صاف کردی جائے گی۔
خاندان کے فرد نے الزام لگایا، ’’بیکن حکام نے ہمیں بانڈی پورہ کی طرف روانہ ہونے کو کہا اور یقین دلایا کہ ایمبولینس کے آگے سڑک صاف کردی جائے گی، لیکن ایس ڈی ایم گریز نے ہمیں آگے جانے کی اجازت نہیں دی۔‘‘
اہل خانہ کا کہنا ہے کہ خاتون پوری رات درد میں مبتلا رہی اور آدھی رات کے قریب ایس ڈی ایچ گریز میں بچے کی پیدائش کے وقت معلوم ہوا کہ بچہ رحم مادر میں ہی دم توڑ چکا تھا۔
ادھر ضلع اسپتال بانڈی پورہ کے ایک سینئر ڈاکٹر نے کے این او کو بتایا کہ خاتون کو بدھ کی صبح تقریباً 8 بجے اسپتال لایا گیا، جہاں اسے مردہ قرار دیا گیا۔
اہل خانہ نے گریز کے مقامی طبی مرکز میں خون کی دستیابی پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ علاقے میں کئی ماہ قبل مقامی رکن اسمبلی نے بلڈ بینک کا افتتاح کیا تھا، تاہم اس کے باوجود انہیں خون کی دستیابی کے حوالے سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
اس معاملے پر مؤقف جاننے کے لیے بلاک میڈیکل آفیسر (بی ایم او) گریز اور چیف میڈیکل آفیسر (سی ایم او) بانڈی پورہ سے بار بار رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم ان سے رابطہ نہیں ہوسکا۔