گوجرنوالہ پولیس ترجمان کی جانب سے 7 پولیس اہلکاروں کی گرفتاری کا دعویٰ- صرف ایک اہلکار گرفتار ہوا، مدعی
گوجرانوالہ اروپ پولیس اسٹیشن
گوجرنوالہ میں پنجاب پولیس نے اہلکاروں نے حاضر سروس فوجی جوان اور اس کے والد اور بھائیوں کو تھانے لے جا کر تشدد کا نشانہ بنایا۔ واقعے کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ پولیس ترجمان کے مطابق 7 اہلکار گرفتار ہیں جب کہ مدعی کا کہنا ہے کہ صرف ایک اہلکار گرفتار کیا گیا۔
گوجرنوالہ کے تھانہ اروپ میں فوجی جوان عبدالحق کی جانب سے درج کرائی گئی ایف آئی کے مطابق وہ گلہ باب ولی والا کوٹ اسحاق عالم چوک پر اپنے گھر کے باہر کریانہ اسٹور پر کھڑا تھا جب پولیس اہلکاروں نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا اور گاڑی میں پھینکا، لوگوں نے روکنے کی کوشش کی تو پولیس نے مزید نفری بلائی اور اس کے دو باھئیوں، اور والد کو تھانے لے گئے۔ ایف آئی آر کے مطابق جب فوجی جوان کی یونٹ سے فون کیا گیا تو پولیس اہلکاروں نے این سی او سے بھی بدتمیزی کی۔
گوجرانوالہ پولیس کے ترجمان محمد عرفان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ تھانہ اروپ کی چوکی عالم چوک کے انچارج سب انسپکٹر محمد عمران سمیت 7 اہلکاروں کے خلاف 10 اکتوبر کو حاضر سروس فوجی اہلکار عبدالحق اور اس کے بھائیوں پر تشدد کا مقدمہ درج کر کے ان سب کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور قانون کے مطابق کارروائی جاری ہے۔
متاثرہ فوجی اہلکار عبدالحق کے والد ذوالفقار احمد نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ میرے بیٹوں کو مجھ سمیت پولیس نے گرفتار کیا اور چوکی لے جا کر تشدد کا نشانہ بنایا، تاہم ادارے کی مداخلت پر ہمیں رہائی ملی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ میڈیکل رپورٹ پر مقدمہ درج ہوا لیکن اب بھی پولیس اپنے پیٹی بھائیوں کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے اور صرف سب انسپکٹر کو گرفتار کیا ہے۔
ذوالفقار احمد نے بتایا کہ ان کا بیٹا عبدالحق فوجی ملازم ہے اور لاہور میں ڈیوٹی کرتا ہے۔ وہ 28 دن کی چھٹی پر گھر آیا ہوا تھا اور شام کے وقت اپنے گھر کے پاس ہی کریانہ سٹور پر کھڑا تھا کہ عالم چوک چوکی کے انچارج سب انسپکٹر محمد عمران دیگر پولیس اہلکاروں کے ساتھ گاڑی پر وہاں آئے اور پوچھ گچھ شروع کر دی۔ والد کے مطابق میرے بیٹے نے بتایا کہ میں فوجی اہلکار ہوں اور چھٹی پر آیا ہوں۔ اسی دوران ان میں تلخ کلامی ہوئی، جس پر پولیس نے زبردستی پکڑ کر میرے بیٹے کو گاڑی میں ڈالنے کی کوشش کی، لیکن وہاں پر موجود لوگوں کے شور شرابے اور میرے دوسرے 2 بیٹوں کے وہاں آنے پر انہوں نے مزید نفری بلا لی۔ ذوالفقار احمد نے بتایا کہ میں وہاں پہنچا تو معاملہ ختم کرنے کی بجائے پولیس نے ہمیں تشدد کا نشانہ بنایا اور ہم 4 کو زبردستی پکڑ کر چوکی لے گئے۔ وہاں لے جا کر پلاسٹک کے پائپوں اور ڈنڈوں سے ہمیں شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔ ہمارے عزیزوں نے کسی طرح عبدالحق کے دفتر بتایا تو انہوں نے ہمیں چوکی سے رہا کروایا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ہم نے تشدد کا طبی معائنہ کروایا، جس کے بعد مشکل سے پولیس نے مقدمہ درج کیا۔ صرف سب انسپکٹر محمد عمران کو گرفتار کیا گیا ہے مگر باقی اہلکاروں کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی۔ عبدالحق کے مطابق ہم نے اعلیٰ حکام کو بھی درخواست دی ہے کہ ہمیں انصاف دلوایا جائے اور واقعے میں ملوث تمام پولیس اہلکاروں کے خلاف اختیارات سے تجاوز کرنے اور ہمیں بے گناہ تشدد کا نشانہ بنانے پر نوکریوں سے برطرف کر کے سخت سزا دی جائے۔