ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

جموں و کشمیر میں رابطہ نظام کی نئی جہتیں: ریلوے، سڑکوں، سرنگوں اور فضائی رابطوں سے ترقی کی راہیں ہموار

نئی دہلی/جموں و کشمیر کے دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں رابطہ نظام کو بہتر بنانے کے لیے ریلوے، سڑکوں، سرنگوں اور ہوائی اڈوں کے بنیادی ڈھانچے کو وسعت دی جا رہی ہے۔ ادھم پور-سری نگر-بارہمولہ ریلوے لنک (USBRL) کے ذریعے وادی کشمیر کو ملک کے ریلوے نیٹ ورک سے جوڑا گیا ہے، جبکہ چناب ریلوے پل کو دنیا کا بلند ترین ریلوے آرچ پل قرار دیا گیا ہے۔
پریس انفارمیشن بیورو کی جانب سے 17 اکتوبر کو جاری تفصیلات کے مطابق، وندے بھارت ٹرین خدمات میں توسیع، مال برداری کے جدید مراکز اور سڑکوں پر سرنگوں کی تعمیر سے سیاحت، تجارت، زراعت اور مقامی کاروبار کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔ سونہ مرگ اور زوجیلا سرنگوں کو بھی سال بھر آمدورفت یقینی بنانے کے لیے اہم قرار دیا گیا ہے۔

ریلوے رابطہ: 43,780 کروڑ روپے کا منصوبہ
ادھم پور،سری نگر،بارہمولہ ریلوے لنک منصوبے کا افتتاح جون 2025 میں کیا گیا۔ 43,780 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کیے گئے اس منصوبے کی مجموعی لمبائی 272 کلومیٹر ہے۔ یہ ادھم پور، ریاسی، رام بن، سری نگر، اننت ناگ، پلوامہ، بڈگام اور بارہمولہ اضلاع سے گزرتا ہے۔منصوبے میں 36 سرنگیں شامل ہیں، جن کی مجموعی لمبائی 119 کلومیٹر ہے، جبکہ اس میں 943 پل بھی تعمیر کیے گئے ہیں۔ منصوبے کے تحت سرنگوں اور کھلے حصوں سمیت پورا ریلوے نیٹ ورک بجلی سے چلنے والے نظام سے آراستہ ہے۔پی آئی بی کے مطابق، اس منصوبے کے تحت 215 کلومیٹر سے زیادہ سڑکیں بھی تعمیر کی گئی ہیں، جن میں ایک سرنگ اور 320 پل شامل ہیں۔ منصوبے سے پانچ کروڑ سے زیادہ افرادی دنوں کے روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔

وندے بھارت ٹرین: جموں سے سری نگر کا سفر پانچ گھنٹے سے کم
جموں و کشمیر میں وندے بھارت ایکسپریس سروس جون 2025 میں کٹرا اور سری نگر کے درمیان شروع ہوئی تھی۔ اپریل 2026 میں اس سروس کو جموں توی ریلوے اسٹیشن تک توسیع دی گئی۔سرکاری تفصیلات کے مطابق، جموں سے سری نگر تک کا سفر اب پانچ گھنٹے سے بھی کم وقت میں مکمل کیا جا سکتا ہے۔ ٹرینوں میں کوچوں کی تعداد 8 سے بڑھا کر 20 کر دی گئی ہے۔ انہیں شدید موسمی حالات اور بلند پہاڑی علاقوں میں چلانے کے لیے خصوصی طور پر تیار کیا گیا ہے۔برف باری کے دوران ریلوے پٹریوں کو صاف رکھنے کے لیے برف ہٹانے والی ٹرین بھی استعمال کی جاتی ہے، جبکہ زلزلے کے جھٹکوں کے اثرات کم کرنے کے لیے خصوصی ڈیمپر نصب کیے گئے ہیں۔

چناب ریلوے پل: دنیا کا بلند ترین آرچ پل
ریاسی ضلع میں دریائے چناب پر تعمیر کیا گیا چناب ریلوے پل منصوبے کا اہم حصہ ہے۔ جون 2025 میں افتتاح کیے گئے اس پل کی لمبائی 1,315 میٹر ہے، اس کے محرابی حصے کا پھیلاؤ 467 میٹر ہے اور یہ دریا کی سطح سے 359 میٹر بلند ہے، جو اسے دنیا کا بلند ترین ریلوے آرچ پل بناتا ہے۔پل کو تیز ہواؤں اور زلزلے کے جھٹکوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اس پر وندے بھارت ٹرینوں کی آمدورفت سے جموں اور کشمیر کے درمیان ریل رابطے میں بہتری آئی ہے۔

انجھی کھڈ پل اور سرنگ ٹی 50
ریاسی ضلع میں تعمیر کیا گیا انجھی کھڈ پل بھارت کا پہلا کیبل اسٹے ریلوے پل ہے۔ یہ دریائے چناب کی معاون ندی انجھی پر واقع ہے۔ پل کو ایک 193 میٹر بلند الٹے انگریزی حرف Yکی شکل کے ستون سے سہارا دیا گیا ہے، جبکہ اس کی مجموعی لمبائی 473.25 میٹر ہے۔ اس کا افتتاح بھی جون 2025 میں کیا گیا۔اسی منصوبے میں کھڑی اور سمبر کے درمیان سرنگ ٹی 50 بھی شامل ہے، جس کی لمبائی 12.77 کلومیٹر ہے۔ اس سرنگ کا افتتاح 2024 میں کیا گیا تھا۔ اسے بھارت کی طویل ترین ٹرانسپورٹ سرنگ قرار دیا گیا ہے۔ اس میں مرکزی سرنگ کے ساتھ ایک متوازی ہنگامی سرنگ بھی تعمیر کی گئی ہے، جبکہ حفاظتی نگرانی کے لیے سی سی ٹی وی کیمرے نصب ہیں۔

سونہ مرگ سرنگ: سال بھر سیاحت کو فروغ دینے کی امید
سونہ مرگ سرنگ، جسے زیڈ موڑ سرنگ بھی کہا جاتا ہے، جنوری 2025 میں کھولی گئی۔ اس منصوبے میں 6.4 کلومیٹر طویل دو طرفہ سرنگ، اتنی ہی لمبی متوازی ہنگامی سرنگ اور 5.5 کلومیٹر رابطہ سڑک شامل ہے۔ اس پر 2,700 کروڑ روپے سے زیادہ لاگت آئی ہے۔سطح سمندر سے تقریباً 2,634 میٹر بلندی پر واقع یہ سرنگ سری نگر سے سونہ مرگ اور آگے لیہہ کی جانب ہر موسم میں آمدورفت کو بہتر بنانے کے لیے تعمیر کی گئی ہے۔ اس سے برفانی تودوں اور لینڈ سلائیڈنگ سے متاثر ہونے والے سڑک کے حصوں کو بائی پاس کرنے میں مدد ملتی ہے۔سرکاری رپورٹ کے مطابق، اس منصوبے سے سرمائی سیاحت، ایڈونچر اسپورٹس اور مقامی لوگوں کے روزگار کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔

زوجیلا سرنگ: سفر کا دورانیہ دو گھنٹے سے گھٹ کر 30 منٹ ہونے کی امید
زوجیلا سرنگ قومی شاہراہ ون پر بالتل اور منی مرگ کے درمیان تعمیر کی جا رہی ہے۔ اس کی لمبائی 13.153 کلومیٹر ہے اور منصوبے پر 6,808 کروڑ روپے لاگت آنے کا تخمینہ ہے۔ اس کی تعمیر اکتوبر 2020 میں شروع ہوئی تھی، جبکہ مرکزی سرنگ کی کھدائی جون 2026 میں مکمل ہونے کے مرحلے تک پہنچ گئی۔سرنگ میں جدید وینٹی لیشن نظام، آگ کا پتا لگانے اور بجھانے کے آلات، سی سی ٹی وی نگرانی اور ٹریفک انتظام کے جدید نظام نصب کیے جائیں گے۔ منصوبے میں اضافی سرنگیں، پل، کلورٹس اور برفانی تودوں سے تحفظ کے لیے مختلف ڈھانچے بھی شامل ہیں۔منصوبہ مکمل ہونے کے بعد سونہ مرگ سے منی مرگ تک سفر کا دورانیہ تقریباً دو گھنٹے سے کم ہو کر 30 منٹ رہ جانے کی توقع ہے۔ اس سے موسم سرما میں زوجیلا درے پر شدید برف باری اور برفانی تودوں کے باعث پیدا ہونے والی مشکلات میں کمی، سیاحت اور تجارت میں اضافہ اور سرحدی علاقوں تک رسائی بہتر ہونے کی امید ہے۔

دیگر اہم سڑک اور شاہراہ منصوبے
جموں و کشمیر میں سڑکوں کے نیٹ ورک کو بہتر بنانے کے لیے متعدد منصوبوں پر بھی کام جاری ہے۔ دہلی-امرتسر-کٹرا ایکسپریس وے: 667 کلومیٹر طویل اس گرین فیلڈ شاہراہ کے اہم حصوں کا افتتاح جولائی 2026 میں کیا گیا۔ منصوبے کے مکمل ہونے سے دہلی اور کٹرا کے درمیان سفر تقریباً 14 گھنٹے سے کم ہو کر چھ گھنٹے رہ جانے کی توقع ہے۔
– رفیع آبادکپواڑہ شاہراہ: قومی شاہراہ 701 کے اس حصے کو چوڑا اور مضبوط بنانے کے لیے جون 2025 میں سنگِ بنیاد رکھا گیا، جس سے سرحدی علاقوں میں رابطہ بہتر بنانے کا ہدف ہے۔
– شوپیاں بائی پاس: 8.925 کلومیٹر طویل اس منصوبے پر 224.44 کروڑ روپے لاگت منظور کی گئی ہے۔ اس سے شوپیاں، پلوامہ اور کولگام کے درمیان رابطہ بہتر ہونے اور زرعی پیداوار کی نقل و حمل تیز ہونے کی توقع ہے۔
– وزیر اعظم گرام سڑک یوجنا: اگست 2026 میں 598.455 کلومیٹر طویل 110 سڑک منصوبوں کا سنگِ بنیاد رکھا گیا۔ ان پر 1,500 کروڑ روپے سے زیادہ لاگت آئے گی اور ادھم پور، کٹھوعہ، ڈوڈہ اور کشتواڑ کے علاقوں میں 46,972 افراد کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔

سری نگر ہوائی اڈے کی توسیع پر 1,677 کروڑ روپے خرچ ہوں گے
سری نگر بین الاقوامی ہوائی اڈے کے سول انکلیو کی توسیع کے لیے فروری 2026 میں 1,677 کروڑ روپے کا منصوبہ منظور کیا گیا۔اس منصوبے کے تحت 71,500 مربع میٹر پر محیط نئی ٹرمینل عمارت تعمیر کی جائے گی، جو مصروف اوقات میں 2,900 مسافروں اور سالانہ ایک کروڑ مسافروں کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھے گی۔منصوبے میں طیاروں کے لیے 15 پارکنگ بے، ایک ہزار گاڑیوں کی گنجائش والی کثیر منزلہ پارکنگ اور سکیورٹی اہلکاروں کے لیے بیرکیں بھی شامل ہیں۔ نئی عمارت میں کشمیری روایتی فنِ تعمیر، لکڑی کے کام اور مقامی دستکاری کو جگہ دینے کے ساتھ ماحول دوست تعمیراتی طریقوں پر بھی توجہ دی جائے گی۔اس کے علاوہ اڑان اسکیم کے تحت ادھم پور اور کشتواڑ میں علاقائی ہوائی رابطوں کو فروغ دینے کے منصوبے بھی پیش کیے گئے ہیں۔

مال برداری کے مراکز سے تجارت اور زراعت کو فائدہ
رپورٹ کے مطابق، ملٹی موڈل لاجسٹکس نظام کے تحت ریلوے سے منسلک مال برداری کے جدید مراکز قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ زرعی پیداوار اور دیگر اشیا کو ملک کی بڑی منڈیوں تک پہنچانا آسان ہو۔جموں و کشمیر کے سانبہ ضلع میں گتی شکتی ملٹی موڈل کارگو ٹرمینل 2024 میں شروع کیا گیا، جو اب مکمل طور پر فعال ہے۔ اس کے علاوہ کٹھوعہ، اننت ناگ اور جموں اضلاع میں مزید تین کارگو ٹرمینلز کی ترقی کے لیے اصولی منظوری دی گئی ہے۔ان مراکز میں گوداموں، کولڈ اسٹوریج اور دیگر لاجسٹک سہولیات کے ذریعے سیب، خشک میوہ جات، زعفران، پشمینہ شالوں اور دستکاری کی مصنوعات کو وسیع تر منڈیوں تک پہنچانے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔

رابطہ نظام میں بہتری سے معاشی ترقی کی امید
پی آئی بی کے مطابق، ریلوے، سڑکوں اور فضائی رابطوں کے منصوبے الگ الگ اقدامات کے بجائے ایک مربوط نیٹ ورک کی شکل اختیار کر رہے ہیں۔ ان سے مقامی لوگوں، کسانوں، تاجروں اور سیاحت سے وابستہ کاروباروں کو بہتر رسائی اور نئے مواقع میسر آنے کی توقع ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بہتر رابطہ نظام سے زرعی پیداوار کی نقل و حمل، سیاحت، روزگار اور سرمایہ کاری کو فروغ مل سکتا ہے، جبکہ سرحدی علاقوں تک رسائی، دفاعی رسد اور قدرتی آفات کے دوران امدادی کارروائیوں میں بھی بہتری آنے کی امید ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں