ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

باڈہ، تعلقہ موومنٹ کے تحت شہر کو تحصیل کا درجہ دلانے کیلیے مظاہرہ

 

 

باڈہ (پ ر) حکمرانوں کے وعدے پورے نہ ہوسکے۔ تاریخی شہر باڈہ کو تحصیل کا درجہ نہ مل سکا۔ شہریوں کے حوصلے بلند، گزشتہ ڈھائی سالوں سے مسلسل جاری تحریک کم ہونے کے بجائے روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔ باڈہ تعلقہ موومنٹ کی جانب سے ہر اتوار کو ہونے والے احتجاج کے سلسلے میں اس اتوار کو بھی موومنٹ کے کنوینر علی محمد بروہی، ڈپٹی کنوینر زیب علی ساریو، کامریڈ قادر بروہی اور رواداری تحریک سندھ کے صدر کامریڈ پنہل ساریو کی قیادت میں احتجاجی مظاھرہ کیا گیا۔ احتجاجی مظاہرے میں مختلف نامور شخصیات، معروف صحافی اور سماجی رہنمائوں عرفان علی عالمانی، رضوان عباسی، کاکا زریاب، دودو دیشی، اصغر نوناری، علی انور عسکری، سعید پٹھان، اسحاق مشوری، پپن میرانی، عبداللہ بروہی، وحید کاندھڑو، اصغر ساریو، جمال خاصخیلی، ممتاز پنہور، نظام کولاچی، نور احمد ہیسبانی، نبی رضا بلوچ، علی رضا نوناری، حاجی اللہ رکھیو کاندھڑو، مظہر نوشاد پھلپوٹو، طاہر نور ہیسبانی، محمد ہاشم مدنی سومرو، محمد امین سیال، جی ایم چنجنی، آصف مشتاق میرانی، افضل سانبھل، بہوتار اعجاز ساریو، راجا سومرو، مہتاب ساریو، مسلم ساریو، شہزادو لاکھیر، قاسم چنا، مرتضیٰ گوپانگ، واجد ملاح، شاہد شیخ، کاشف جونیجو، ایاز شیخ، احمد خان زہری، احمد رضا زہری، علی زہری، اورنگزیب سومرو، معصوم بالک میثم عباس گوپانگ، رئیس اظہر گوپانگ سمیت شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینر اٹھا کر باڈہ تحصیل کے حق میں نعرے بازی کی۔ اس موقع پر کنوینر علی محمد بروہی اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ضلع لاڑکانہ کے سب سے بڑے شہر باڈہ کو تباہ و برباد کیا گیا ہے اور اس سازش میں مقامی منتخب ایم این اے اور ایم پی اے ملوث ہیں۔انہوں نے کہا کہ مقامی منتخب نمائندگان باڈہ کے عوام سے ملے ہوئے مینڈیٹ اور ووٹ کی توہین کر رہے ہیں کیونکہ انتخابی مہم کے دوران ان نمائندوں نے باڈہ کے عوام سے جو وعدے کیے وہ اب بھول چکے ہیں اور یاد کروانے پر وہ اپنے وعدوں سے مکر گئے ہیں۔ رہنمائوں نے مزید کہا کہ ہم نے پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے ایم این اے، ایم پی اے، سندھ کے وزرا ، مشیران، وزیر اعلیٰ سندھ سمیت پیپلز پارٹی کے چیرمین بلاول زرداری تک زبانی اور تحریری یادداشت نامہ بھیجا ہے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ حکمران اپنے وعدے وفا کرنے کے بجائے ہمیں ڈرا دھمکا رہے ہیں اور تحریک سے دستبردار ہونے کے لیے مختلف حربے چلائے جا رہے ہیں۔ قائدین کا کہنا تہا کہ ہم ان دھمکیوں سے ڈرنے والے نہیں اور نہ ہی اپنی تحریک سے دستبردار ہونے والے ہیں۔ ہماری یہ تحریک تقریباً تین سال سے جاری ہے اور تب تک رہے گی جب تک باڈہ تحصیل کا نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا جاتا۔ مقررین نے کہا کہ اب باڈہ اور گردونواح کے عوام کا ووٹ تحصیل کے مطالبے سے مشروط ہے اور جو بھی باڈہ کو تحصیل کا درجہ دلوائے گا ووٹ اس کو دیا جائے گا۔ آخر میں وزیراعلیٰ سندھ سے پرزور مطالبہ کیا گیا کہ باڈہ تحصیل کا نوٹیفکیشن فوری طور پر جاری کر کے باڈہ کے عوام میں پھیلی ہوئی بے چینی دور کی جائے بصورت دیگر احتجاج کا دائرہ صوبائی سطح پر وسیع کیا جائے گا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں