درجنوں مظاہرین نے جمعہ کے روز کراچی موبائل مارکیٹ میں سام سنگ کے بل بورڈز کو اس وقت توڑنا شروع کر دیا جب انہیں یہ یقین دلایا گیا کہ کمپنی نے ایک QR کوڈ متعارف کرایا ہے جو کسی طرح اسلام کی توہین کرتا ہے۔
This is real life, ladies and gentlemen:
Islamist extremists from Barelvi extremist group TLP are destroying Samsung billboards in Karachi city for introducing a QR code that is allegedly blasphemous. #Pakistan pic.twitter.com/lzxk4KSY2j
— FJ (@Natsecjeff) July 1, 2022
مقامی صحافیوں کے مطابق تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے کارکنوں نے مبینہ طور پر گستاخانہ QR کوڈ پر شہر کے کئی حصوں میں بل بورڈز کو اکھاڑ دیا ہے۔
Barelvi Islamist extremists from TLP destroying Samsung billboards for introducing a QR code that is allegedly blasphemous. #Karachi #Pakistan
— FJ (@Natsecjeff) July 1, 2022
تاہم ایک مقامی صحافی نے کہا کہ احتجاج اس وقت شروع ہوا جب سام سنگ کے ایک ملازم نے مبینہ طور پر اپنے وائی فائی ڈیوائس کے لیے توہین آمیز نام بتا دیا۔ پولیس نے ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کی جانب سے ابھی تک اس حوالے سے کوئی بیان نہیں دیا گیا ہے۔
UPDATE:
Islamist protests against Samsung are now taking place in Saddar area of Karachi. Samsung billboards and products are being destroyed after someone found an allegedly blasphemous QR Code. #Pakistan pic.twitter.com/gCXQodSQqT
— FJ (@Natsecjeff) July 1, 2022
خیال رہے کہ گذشتہ سال 2021ء میں بھی اسی طرح کا ایک معاملہ پیش آیا تھا جب ایک جنونی شخص نے الزام عائد کیا تھا کہ 7UP کے QR کوڈ پر بھی توہین آمیز کلمات درج ہے۔ مذکورہ شخص نے 7UP لے کر جانے والے ٹرک کو روکا اور ہجوم کے سامنے اعلان کیا تھا کہ وہ اسے جلا دے گا۔