ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

توشہ خانہ کیس کا فیصلہ آج، الیکشن کمیشن اور ریڈ زون میں سکیورٹی سخت

 اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان توشہ خانہ ریفرنس کیس کا فیصلہ آج دوپہر 2 بجے سنائے گا۔اس سلسلے میں الیکشن کمیشن کے فول پروف سکیورٹی طلب کرنے پر سخت حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے پی ٹی آئی کارکنان کے پہنچنے یا ممکنہ ہنگامہ آرائی کے خدشے کے پیش نظر پورے علاقے اور خصوصاً عمارت کے ارد گرد سخت سکیورٹی تعینات کردی گئی ہے جب کہ نفری کے لیے آنسو گیس کے شیل سمیت دیگر ضروری سامان بھی پہنچا دیا گیا ہے۔ اسلام آباد انتظامیہ کی جانب سے پولیس افسران کی زیر نگرانی ٹیمیں تشکیل دیتے ہوئے ایک ہزار سے زائد اہل کار تعینات کیے گئے ہیں، جن میں ایف سی اوررینجرز اہلکار بھی  شامل ہیں۔

سکیورٹی انتظامات کے تحت الیکشن کمیشن میں کیس سے غیر متعلقہ افراد کا داخلہ ممنوع قرار دیا گیا ہے جب کہ ریڈ زون میں بھی داخلہ محدود ہے۔

مزید پڑھیں: ایم این اے دوبارہ قومی اسمبلی کا انتخاب کیسے لڑ سکتا ہے؟ چیف الیکشن کمشنر

لیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے آج دوپہر 2 بجے توشہ خانہ ریفرنس کیس کا فیصلہ سنائے جانے کے سلسلے میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سمیت دیگر فریقین کو گزشتہ روز نوٹسز جاری کر دیے گئے تھے جب کہ اس کیس کا فیصلہ 19 ستمبر کو محفوظ کیا گیا تھا۔

کیس کے سلسلے میں عمران خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کو بتانا ضروری نہیں کہ توشہ خانہ کے تحائف خریدنے کے لیے رقم کہاں سے آئی؟۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن نے اسکروٹنی کے لیے اسٹیٹ بنک آف پاکستان سے عمران خان کے اکاؤنٹس کی تفصیلات بھی طلب کی تھیں۔

امزید پڑھیں: توشہ خانہ کیس؛ الیکشن کمیشن نے عمران خان نااہلی ریفرنس کا فیصلہ محفوظ کرلیا

واضح رہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف نے اگست کے اوائل میں توشہ خانہ کیس کی روشنی میں عمران خان کی نااہلی کے لیے الیکشن کمیشن کو ریفرنس بھیجا تھا، جس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ عمران خان نے توشہ خانہ سے حاصل ہونے والے تحائف فروخت کرکے جو آمدن حاصل کی اسے اثاثوں میں ظاہر نہیں کیا۔

آئین کے آرٹیکل 63 کے تحت دائر کیے جانے والے ریفرنس میں آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت عمران خان کی نااہلی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ بعد ازاں عمران خان نے توشہ خانہ ریفرنس کے سلسلے میں 7 ستمبر کو الیکشن کمیشن میں اپنا تحریری جواب جمع کرایا تھا، جس کے مطابق یکم اگست 2018ء سے 31 دسمبر 2021ء کے دوران وزیر اعظم اور ان کی اہلیہ کو 58 تحائف دیے گئے۔

مزید پڑھیں: عمران خان نے توشہ خانہ ریفرنس میں الیکشن کمیشن میں جواب جمع کرادیا

جواب میں بتایا کہ ان سب تحائف میں صرف 14 چیزیں ایسی تھیں جن کی مالیت 30 ہزار روپے سے زائد تھی، جسے انہوں نے باقاعدہ طریقہ کار کے تحت رقم کی ادائیگی کر کے خریدا تھا۔اپنے جواب میں عمران خان نے اعتراف کیا تھا کہ انہوں نے بطور وزیر اعظم اپنے دور میں 4 تحائف فروخت کیے تھے۔

دوران سماعت پی ڈی ایم کے وکیل خالد اسحاق نے کہا کہ عمران خان نے دعویٰ بھی کیا کہ ایف بی آر میں فروخت شدہ تحائف کی آمدن ظاہر کردی تھی، لیکن دونوں گوشوارے الگ الگ ہیں۔لندن فلیٹ کی رسیدیں دینے والا بیچے گئے تحائف کی رسیدیں کیوں نہیں دے رہا۔

خالد اسحاق نے مؤقف پیش کیا کہ ننکانہ صاحب کے ضمنی انتخاب میں تحائف کا اعتراض اٹھا تو عمران خان نے ریٹرننگ افسر سے کہا کہ یہ فیصلہ کرنے کا مجاز فورم الیکشن کمیشن ہے۔اب یہاں الیکشن کمیشن کا اختیار ہی نہیں مان رہے  جب کہ اثاثے ظاہر نہ کرنے پر الیکشن کمیشن ہی کسی ممبر کو نااہل کرسکتا ہے۔

الیکشن کمیشن نے استفسار کیا کہ ممکن ہے اثاثے ظاہر کرنے میں غلطی ہوگئی ہو؟ تب تو نااہلی نہیں بنتی۔خالد اسحاق نے کہا کہ اگر غلطی ہوئی تو تسلیم کی جائے۔ عمران خان بیان حلفی پر جھوٹ بولنے کے مرتکب ہوئے ہیں۔ کیس کی سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے مؤقف اپنایا تھا کہ 62 ون ایف کے تحت نااہلی صرف عدلیہ کا اختیار ہے اور سپریم کورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن کوئی عدالت نہیں۔

علاوہ ازیں اسپیکر قومی اسمبلی ریفرنس بھیجنے کے اہل بھی نہیں ہیں۔  تحائف خریدنے کے لیے رقم کہاں سے آئی، اس کا الیکشن کمیشن سے کوئی تعلق نہیں۔کمیشن ارکان نے ریمارکس دیے کہ اگر کمیشن کچھ کرنہیں سکتا تو اسپیکر کے ریفرنس بھیجنے کی شق کیوں ڈالی گئی؟ جہاں شک ہو وہاں الیکشن کمیشن اسکروٹنی بھی کرتا ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں