ترکیہ کی اقوام متحدہ میں مستقل مندوب جیرین خاندے اوزگیور کا کہنا ہے کہ ہم امید کرتے ہیں کہ”اناج معاہدے میں جمود عبوری ہو گا۔”
اوزگیو نے سلامتی کونسل میں روس کے اناج راہداری معاہدے کو کالعدم قرار دینے کے فیصلے کے اثرات پر غور و خوض ہونے والی نشست سے خطاب کیا۔
انہوں نے کہا کہ "ہم امید کرتے ہیں کہ اناج کی ترسیل میں وقفہ عارضی ہے۔ ہمیں امید ہے کہ تمام فریقین کی ضروریات اور توقعات کو پورا کرتے ہوئے، جلد از جلد آپریشن دوبارہ شروع ہو جائے گا۔” ترکیہ اقوام متحدہ اور دونوں فریقین کے ساتھ مل کر کام جاری رکھے گا ، اس اقدام کو مکمل طور پر ختم کرنے سے خوراک کی عالمی منڈی کو نقصان پہنچے گا۔
انہوں نے اس عمل میں تمام فریقوں سے تحمل سے کام لینے کا مطالبہ کیا اور مزید کہا کہ یکطرفہ اقدامات سے گریز کیا جانا چاہیے جو اس اقدام کے دوبارہ شروع ہونے کے امکان کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔
دوسری جانب اقوام متحدہ نے ماسکو سے معاہدے کی طرف واپسی کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ روس کی جانب سے بحیرہ اسود کے اناج راہداری معاہدے کو ختم کرنے کے فیصلے سے خوراک کی عالمی قیمتوں اور ترقی پذیر ممالک پر وسیع اثرات پیدا ہوں گے۔
سیاسی اور امن سازی کے امور کے لیے اقوام متحدہ کی ڈپٹی سیکرٹری جنرل روزمیری ڈی کارلو نے نشست میں اپنی تقریر میں اس طرف توجہ مبذول کرائی کہ روس کے فیصلے کے بعد خوراک کی عالمی قیمتوں میں اضافہ ہونا شروع ہو گیا ہے۔
اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ یوکرین کی بندرگاہوں پر روس کے حملے نے خوراک کی حفاظت کو ایک اضافی دھچکا پہنچایا، ڈی کارلو نے کہا کہ ان حملوں سے شہریوں کی جانیں بھی ضائع ہوئیں۔بحیرہ اسود میں سفر کرنے والے سول بحری جہازوں کو ہدف بنائے جا سکنے کی دھمکیاں نا قابل قبول ہیں۔
اقوام متحدہ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل برائے انسانی امور اور ہنگامی امداد کے کوآرڈینیٹر مارٹن گریفتھس نے کہا کہ اقوام متحدہ اناج کی برآمدات کے حصول کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا اور اس کے لیے بین الاقوامی تعاون اور سفارت کاری کی ضرورت ہے۔ اس تناظر میں ترک حکومت کی غیر معمولی کوششوں اور تعاون کے ہم مشکور و ممنون ہیں۔