مقبوضہ بیت القدس: فلسطینی مزاحمتی تنظیم اور غزہ کی حکمراں جماعت حماس نے آپریشن الاقصی طوفان کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیل پر بڑا حملہ کردیا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق غزہ سے اسرائیل پر 5 ہزار سے زائد راکٹ فائر کیے گئے اور متعدد فلسطینی مجاہدین اسرائیل میں داخل ہوگئے جہاں ان کی سڑکوں اور گلیوں میں اسرائیلی فوجیوں سے جھڑپیں ہورہی ہیں۔ مجاہدین نے 35 صہیونی فوجیوں کو قیدی بھی بنالیا ہے۔
حماس کے فوجی ونگ القسام بریگیڈز کے سربراہ کمانڈر محمد الضیف ’ابو خالد‘ نے آپریشن الاقصی طوفان شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ اسرائیل کی جانب سے مسجد الاقصیٰ میں مسلسل اشتعال انگیزی اور فلسطینیوں پر مظالم کا جواب ہے۔
Hamas claims to have fired 5,000 rockets towards Israel over the course of two hours
Multiple points of impact reported across the country pic.twitter.com/4Q435F0ono
— i24NEWS English (@i24NEWS_EN) October 7, 2023
راکٹ باری کے نتیجے میں ایک اسرائیلی خاتون ہلاک اور 15 زخمی ہوگئے جبکہ اسرائیل کو بھاری مالی نقصان کا بھی سامنا ہے۔ اس کے متعدد قصبوں سے سیاہ دھوئیں کے بڑے بادل اٹھ رہے ہیں جبکہ متعدد گاڑیاں جل کر راکھ ہوگئیں اور عمارتوں کو نقصان پہنچا۔
اسرائیل میں خطرے کے سائرن بج اٹھے اور اسرائیلی فوج نے حالت جنگ کا اعلان کردیا، جبکہ اسرائیلی حکومت نے غزہ میں بھی بمباری کا فیصلہ کیا ہے۔
مقبوضہ فلسطین کی آبادیوں میں فلسطینی نوجوان حماس کے مجاہدین کا استقبال کرتے ہوئے ان کا خیر مقدم بھی کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ غزہ کے ساتھ اسرائیلی سرحد پر بڑھتی ہوئی کشیدگی اور مقبوضہ غرب اردن میں شدید لڑائی کے کئی ہفتوں بعد حماس نے یہ حملہ کیا ہے۔