شمالی قبرصی ترک جمہوریہ کے صدر ایرسن تاتار نے کہا کہ اقوام متحدہ کا شمالی قبرص کے ساتھ معاہدہ نہ ہونا ناقابل قبول سطح پر پہنچ گیا ہے۔
جنوبی قبرص کی یونانی قبرصی انتظامیہ کے بعداقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل برائے امن کے نائب افسر جین پیئر لاکروکس نے جزیرہ قبرص میں روابط کے دوران صدر ایرسن تاتار سے لیفکوشا میں ملاقات کی ۔
ملاقات کے بعد پریس کانفرنس میں تاتار نے کہا کہ لاکروکس کے ساتھ اپنی ملاقات میں انہوں نے بتایا کہ قبرص میں دو ریاستیں ہیں اور اگر وہ یہاں اپنی سرگرمیاں جاری رکھنا چاہتے ہیں تو انہیں شمالی قبرص کے ساتھ مفاہمت کی ایک یادداشت پر بھی دستخط کرنے چاہئیں۔ .
تاتار نے کہا کہ کہ ان کا مطالبات کے بارے میں نقطہ نظر مثبت ہےاقوام متحدہ کی طرف سے قبرص کے لیے جو نمائندہ مقرر کیا جائے گا وہ صرف ایک ذاتی نمائندے کی شکل میں ہو سکتا ہے جو غیر جانبدار ہو، محدود اختیارات رکھتا ہو اور اسے ایک خاص مدت کے لیے مقرر کیا جائے گا۔
تاتار نے کہا کہ وہ ایک خصوصی نمائندے کے ماڈل کو مسترد کر دیں گے جو براہ راست اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے وابستہ ہو گا اور وفاق پر مبنی معاہدے کے لیے مذاکراتی بنیادوں کی تلاش کرے گا۔
تاتار نے اس بات کا اعادہ کیا کہ قبرص میں ایک مستقل، پائیدار اور منصفانہ معاہدہ خود مختار مساوات اور مساوی بین الاقوامی حیثیت کی قبولیت سے گزرتا ہے،حقیقت یہ ہے کہ اقوام متحدہ کے شمالی قبرص کے ساتھ کسی قسم کے معاہدے کی عدم موجودگی ہمارے لیے ناقابل قبول ن چکی ہے۔
ملاقات کے بعد اپنے بیان میں لیکروکس نے کہا کہ وہ دونوں فریقین کے ساتھ قریبی ہم آہنگی جاری رکھیں گے۔