ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ "سب سے پہلے تو یہ کہ غزّہ فلسطینی عوام کی زمین ہے اور امریکہ کو یہ حقیقت مان لینی چاہیے”۔
صدر ایردوان نے اسلامی تعاون تنظیم اور عرب لیگ کے ہنگامی مشترکہ اجلاس میں شرکت کے بعد سعودی عرب سے واپسی پر طیارے میں اخباری نمائندوں کے سوالات کے جواب دیئے ہیں۔
انہوں نے کہا ہے کہ "اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی تنظیمیں ناکارہ ثابت ہوئی ہیں اور ہم نے ایک دفعہ پھر دیکھ لیا ہے کہ جب مسلمان مر رہے ہوں تو ان عالمی تنظیموں کی آنکھیں اندھی ہو جاتی ہیں”۔
صدر ایردوان نے کہا ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد قائم ہونے والی اس تنظیم کی تجدید اب ایک ضرورت بن گئی ہے۔ اقوام متحدہ کے، مستقل رکنیت اور ویٹو، نظام میں تبدیلی کی جانی چاہیے۔ دنیا کے مستقبل اور عوام کے زندگی کے حق کو ویٹو کے حقدار 5 ممالک کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جانا چاہیے”۔
صدر ایردوان نے کہا ہے کہ سب سے پہلے تو یہ کہ امریکہ کو تسلیم کر لینا چاہیے کہ غزّہ فلسطینی عوام کی زمین ہے۔ اگر بائڈن کے نزدیک غزّہ فلسطینی عوام کی نہیں اسرائیل کی، ان قابض آبادکاروں کی زمین ہے تو پھر تو ہمارا متفق ہونا ہی ناممکن ہے”۔
اسلامی تعاون تنظیم اور عرب لیگ کے مشترکہ ہنگامی اجلاس کے بعد جاری کئے گئے مشترکہ اعلامیے کے بارے میں صدر ایردوان نے کہا ہے کہ "اعلامیہ بہت سے عملی پہلووں کے حامل اور پہلی دفعہ آبادکاروں کو دہشت گرد قرار دینے والے متن پر مشتمل ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ہم حماس کو دہشت گرد کہیں۔ ہرگز نہیں حماس دہشت گرد تنظیم نہیں ہے۔ حماس میں شامل افراد اپنے وطن کا دفاع کرنے والے اور اپنے وطن کے لئے جنگ کرنے والے انسان ہیں "۔
انہوں نے کہا ہے کہ "بین الاقوامی برادری کو اب غزّہ میں جاری قتل عام کے مقابل عملی قدم اٹھانا چاہیے لیکن ہم نے ایک دفعہ پھر دیکھ لیا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اس معاملے میں دوبارہ ناکارہ ثابت ہوئی ہے”۔
صدر ایردوان نے کہا ہے کہ "اس وقت تک سب سے زیادہ قابل عمل تجاویز پیش کرنے والا ملک ترکیہ ہے۔ اس جغرافیہ میں ترکیہ کے بغیر کوئی قدم اٹھانا یا منصوبہ بنانا ناممکن ہے۔ ہمارا اختیار کردہ موقف اور روّیہ، ہماری اقدار اور ہمارے اُصول واضح ہیں۔ ترکیہ علاقائی بحرانوں اور مسائل کے حل میں کلیدی اہمیت کا حامل ملک ہے۔ اپنے جغرافیے میں تمام ممالک کے ساتھ رابطے کا اور جنگی فریقین کو ایک مذاکراتی میز پر جمع کرنے کا اہل واحد ملک ترکیہ ہے”۔
صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ "غزّہ میں حالیہ حملوں کے بعد اسرائیل بین الاقوامی رائے عامہ کے تعاون سے محروم ہو گیا ہے۔ اگرچہ عالمی ممالک کی حکومتیں اپنے ایمپیریل مفادات کی خاطر اسرائیلی انتظامیہ کے ساتھ بغلگیر ہونے کی دوڑ میں شامل ہو رہی ہیں لیکن ان ممالک کے معاشروں کے نزدیک اسرائیل اب ایک ‘ بچوں کا قاتل’ ملک ہے”۔