ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

کیا امریکی صدر انتخابی دوڑ سے الگ ہونے کا اعلان کرنے والے ہیں؟ 

امریکا کے صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ اگر طبی پیچیدگیاں بڑھ گئیں تو وہ انتخابی دوڑ سے الگ بھی ہوسکتے ہیں۔ صدر جو بائیڈن کا کووڈ ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔ اُنہیں معمولی درجے کا کورونا وائرس لاحق ہے۔ طبی ماہرین نے اُنہیں آرام کرنے اور مصروفیات گھٹانے کا مشورہ دیا ہے۔

صدر جو بائیڈن کی الیکشن ٹیم نے بتایا ہے کہ وہ پہلے سے طے شدہ دو تقریبات سے خطاب نہیں کریں گے۔ اُنہوں نے اپنے آپ کو الگ تھلگ کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ جلد صحت یاب ہوسکیں۔

ایک بیان میں صدر بائیڈن نے کہا کہ اگر جامع طبی معائنے سے ثابت ہوا کہ اُن میں کوئی بڑی پیچیدگی ہے تو وہ انتخابی دوڑ سے  الگ ہونے کو ترجیح دیں گے۔ یہ اعلان بہت اہم ہے کیونکہ میڈیا اور سیاسی حریفوں کے علاوہ خود اپنی پارٹی کے لوگ یعنی ڈیموکریٹس بھی صدر بائیڈن سے کہتے رہے ہیں کہ اب اُنہیں انتخابی دوڑ سے الگ ہو جانا چاہیے۔

رائے عامہ کے جائزوں سے معلوم ہوا ہے کہ 32 فیصد ڈیموکریٹس چاہتے ہیں کہ صدر بائیڈن انتخابی دوڑ سے الگ ہو جائیں۔ صدر بائیڈن بضد رہے ہیں کہ وہ مکمل طور پر فِٹ ہیں اور انتخابی دوڑ میں شریک رہنے کی پوری اہلیت رکھتے ہیں۔

چند ماہ کے دوران صدر بائیڈن کا بُھلکّڑ پن بہت نمایاں ہوگیا ہے۔ انہوں نے بہت سے اہم مواقع پر کہنا کچھ چاہا ہے اور کہہ کچھ اور گئے ہیں۔ پہلے صدارتی مباحثے میں اُن کی کارکردگی انتہائی ناقص رہی تھی اور اس پر اُنہیں شدید ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس مباحثے کے بعد سے اُن پر مسلسل دباؤ ڈالا جارہا ہے کہ انتخابی دوڑ سے الگ ہوجائیں۔

صدر بائیڈن کہہ چکے ہیں کہ کملا ہیرس امریکا کی صدر بننے کی اہل ہیں۔ اُن کی اس بات کو بہت سوں سے واضح اشارے کے طور پر لیا تھا کہ اب وہ انتخابی دوڑ سے الگ ہونے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ کملا ہیرس ڈیموکریٹ صدارتی امیدوار کی حیثیت سے سامنے آنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے ڈونلٹ ٹرمپ کے رننگ میٹ یعنی نائب صدر کے منصب کے ری پبلکن امیدوار جے ڈی وینس کو مباحثے کا چیلنج بھی دے دیا ہے۔

اگر صدر جو بائیڈن انتخابی دوڑ سے الگ ہوئے تو امریکی سیاست میں بحرانی کیفیت پیدا ہوسکتی ہے کیونکہ صدارتی انتخاب میں چار ماہ رہ گئے ہیں۔ ایسے میں ڈیموکریٹس کو صدارتی امیدوار کی تبدیلی سے شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ کملا ہیرس اگرچہ جو بائیڈن سے کافی چھوٹی ہیں مگر اُنہیں انتخابی دوڑ میں اپنے آپ کو منوانے کے لیے بہت محنت کرنا پڑے گی۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں