ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

میڈیکل کالج کی طالبہ اغوا کے بعد بازیاب، ہاسٹل ملازم کے ملوث ہونے کا شبہہ



ملتان:

میڈیکل کالج کی اغوا ہونے والی طالبہ کو ملزمان نے چھوڑ دیا، واقعے میں ہاسٹل ملازم کے ملوث ہونے کا شبہہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق نشتر میڈیکل کالج سائیڈ کے گارڈن سے گزشتہ رات گئے اغوا کی گئی طالبہ بازیاب ہو گئی۔نشتر انسٹیٹیوٹ آف ڈینٹیسٹری کی طالبہ کو نشتر گارڈن سے اغوا کیا گیا تھا، جس کے بعد اغوا کار اسے ملتان کے سیوڑہ چوک کے پاس چھوڑ کر فرار ہو گئے۔

پولیس نے طالبہ کے اغوا میں شک کی بنیاد پر 2 ملزمان کو حراست میں لے لیا جب کہ اغوا کاروں میں نشتر اسپتال ہاسٹل سائیڈ کے ملازم کے بھی ملوث ہونے کا امکان ہے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق نشتر انسٹیٹیوٹ آف ڈینٹیسٹری کی طالبہ نشتر میڈیکل کالج کے فائنل ائیر ایم بی بی ایس کے طالب علم سے ملاقات کے لیے نشتر گارڈن آئی تھی، جہاں نشتر اسپتال کے ملازم نے خود کو نشتر سکیورٹی کا بتا کر طالبہ کو کار میں بٹھایا۔ بعد ازاں طالبہ کے ساتھی نے شک گزرنے پر ون فائیو پر پولیس کو اطلاع  کردی۔

دوسری جانب طالبہ کے اغوا کے واقعے کی ایف آئی آر تھانہ کینٹ میں درج کرلی گئی ہے۔ ترجمان نشتر میڈیکل یونیورسٹی کے مطابق ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور واقعے کے انکوائری کے لیے سینئر فیکلٹی ممبران پر مشتمل کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جسے 24 گھنٹوں کے اندر رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

واقعے کے بعد نشتر میڈیکل یونیورسٹی کی سکیورٹی کمپنی کو شو کاز نوٹس جاری کرتے ہوئے سکیورٹی سپروائزر کو معطل کردیا گیا ہے۔

ملزمان کی گرفتاری طالبہ کے ساتھی کی مدعیت میں تھانہ کینٹ میں درج مقدمے کے بعد عمل میں آئی۔ مقدمے کے متن میں طالبہ کے ساتھی نے بتایا کہ میں نشتر میڈیکل یونیورسٹی میں فائنل ائیر کا طالبعلم ہوں۔ اپنی ساتھی طالبہ کے ساتھ 22 دسمبر کی رات ساڑھے 9بجے ہاسٹل جا رہا تھا  کہ  اناٹومی ڈیپارٹمنٹ کے سامنے سے 2 مسلح افراد عبد الکریم اور عبد الرحمن نے ساتھی طالبہ کو زنا کی نیت سے اغوا کر لیا۔

پولیس نے واقعے کی تمام پہلوؤں کو پیش نظر رکھتے ہوئے تفتیش شروع کردی ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں