ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

سینیٹر عرفان صدیقی کی وفات پر سیاسی و صحافتی حلقوں میں گہرے دکھ کا اظہار

اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما، معروف سینیٹر، دانشور اور سابق مشیرِ وزیراعظم عرفان صدیقی کے انتقال نے ملک کے سیاسی و صحافتی حلقوں میں سوگ کی فضا پیدا کر دی ہے۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ان کی وفات پر سیاسی و صحافتی حلقوں سمیت علمی دنیا نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہیں جمہوریت، دانش اور تہذیب کا روشن استعارہ قرار دیا ہے۔ ملکی  قیادت نے بھی ان کی علمی، فکری اور سیاسی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ عرفان صدیقی کی وفات سے پاکستان نے ایک ایسی آواز کھو دی ہے جو دلیل، برداشت اور شائستگی کی علامت تھی۔

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ عرفان صدیقی نے ہمیشہ جمہوری اقدار کے فروغ، قلم کی حرمت اور فکری آزادی کے لیے کام کیا۔ وہ ایک ایسی شخصیت تھے جنہوں نے اپنی تحریروں اور گفتگو کے ذریعے معاشرتی سنجیدگی اور فکری برداشت کو زندہ رکھا۔

صدر زرداری نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے اہل خانہ کو صبر و حوصلہ دے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے عرفان صدیقی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ علم و ادب کے امین، بردبار استاد اور اصول پسند مفکر تھے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے پلیٹ فارم سے عرفان صدیقی نے نہ صرف سیاسی بصیرت بلکہ فکری قیادت کا مظاہرہ کیا۔ ان کی تحریریں قومی سوچ میں گہرے اثرات چھوڑ گئی ہیں۔

وزیراعظم نے ان کے اہل خانہ سے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی علمی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے عرفان صدیقی کی وفات کو ناقابلِ تلافی نقصان قرار دیا۔  انہوں نے کہا کہ عرفان صدیقی نہ صرف ایک بااعتماد ساتھی تھے بلکہ ایک مخلص، روشن فکر اور عاجز انسان تھے۔

انہوں نے کہا کہ ان کا قلم آزادی اظہار کا استعارہ تھا اور ان کی فکری گہرائی نے پاکستانی صحافت و سیاست دونوں میں انمٹ نقوش چھوڑے۔ نواز شریف نے کہا کہ ان کے جانے سے ایک عہد ختم ہو گیا ہے اور ان کی یادیں ہمیشہ دلوں میں زندہ رہیں گی۔

وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ سینیٹر عرفان صدیقی نے سیاست اور صحافت دونوں میں اصول پسندی، تہذیب اور شرافت کی مثال قائم کی۔  وہ ایک ایسے انسان تھے جو اختلاف کے باوجود احترام کے قائل تھے اور یہی ان کی شخصیت کی سب سے بڑی خوبی تھی۔ محسن نقوی نے مرحوم کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے اپنے بیان میں کہا کہ عرفان صدیقی کی وفات پاکستانی سیاست کا بڑا نقصان ہے۔ عرفان صدیقی وقار اور متانت کا پیکر تھے جنہوں نے سیاست میں شائستگی کی وہ روایت قائم کی جو آج بھی مثال ہے۔ انہوں نے سوگوار خاندان سے گہری ہمدردی کا اظہار کیا۔

گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے بھی عرفان صدیقی کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا اور انہیں اصول پسندی، شرافت اور مہذب سیاست کی علامت قرار دیا۔  انہوں نے کہا کہ عرفان صدیقی کی گفتگو میں شائستگی، سوچ میں گہرائی اور طرزِ عمل میں وقار تھا، جو انہیں دوسروں سے ممتاز کرتا تھا۔

دوسری جانب ملکی صحافی برادری کی جانب سے بھی سینیٹر عرفان صدیقی کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے ان کی شخصیت اور ملک کے لیے خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کےلیے مختلف پروگرام ترتیب دیے گئے ہیں۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں