بنگلورو: فلمی طرز کے بھارتی معاشرے میں شرم و حیا نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی اور اخلاقی طور پر یہ قوم دیوالیہ ہوگئی ہے۔بھارت میں نابالغ لڑکیاں حاملہ ہونے لگی ہیں اور ان کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق کرناٹک میں یا تو محبت کی وجہ سے یا پھر قانون کی سمجھ کی کمی کی وجہ سے نابالغ حمل کے واقعات میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔ مختلف وجوہات کی بنا پر لڑکیوں کے حاملہ ہونے کے واقعات میں مسلسل اضافہ تشویشناک ہے۔
گزشتہ تین سالوں میں 2,320 لڑکیاں حاملہ ہو چکی ہیں۔ اس سال اکتوبر کے آخر تک 749 لڑکیاں حاملہ ہو چکی تھیں۔
فحش فلموں اور ویب سیریز سے متاثر ہو کر کچھ لڑکیوں کو چھوٹی عمر میں ہی ناپسندیدہ ذمہ داریوں کی طرف راغب کیا جا رہا ہے۔
جو لڑکیاں اپنے موبائل فون پر ایسی فلمیں اور ویڈیوز دیکھتی ہیں جو جنسی محرک فراہم کرتی ہیں وہ محبت کی طرف راغب ہو جاتی ہیں،جس کا فائدہ نوجوان اٹھاتے ہیں اور نتیجہ کے طور پر نو عمر لڑکیاں حاملہ ہو جاتی ہیں۔
یوں تو ملزم کے خلاف پوکسو کا مقدمہ درج کیا جا رہا ہے لیکن شواہد کی کمی کی وجہ سے متاثرہ خاندان کی عزت مجروح ہونے کے خوف سے ابتدائی مرحلے میں سمجھوتہ کرنے والوں کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے۔ اس سے ملزمان کو سزا سے بچنے کا موقع مل رہا ہے۔
گزشتہ تین برسوں میں چائلڈ ویلفیئر کمیٹی میں نابالغ لڑکیوں کے حاملہ ہونے کے 2,320 کیس درج کیے گئے ہیں۔ خواتین اور بچوں کی بہبود کے محکمے نے بتایا ہے کہ بنگلورو، میسور، چتردرگا، گدگ، کولار سمیت دیگر میں لڑکیوں کے حاملہ ہونے کے 729 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔
ریاستی حکومت نے بچوں کے حمل کو روکنے کے لیے گزشتہ مانسون اجلاس میں بچوں کی شادی پر پابندی ایکٹ 2006 میں ترمیم کی تھی۔ اس میں بچوں کی شادیوں میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کا بھی بندوبست کیا گیا ہے۔
محکمہ اضلاع اور تعلقہ کی سطح پر متعلقہ محکموں کے اہلکاروں کو صلاحیت سازی کی تربیت فراہم کر کے نوعمر حمل کو روکنے کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔
چائلڈ ہیلپ لائن 1098 متاثرین کی حفاظت کے لیے مسلسل کام کر رہی ہے۔ جب بھی اس نمبر پر کسی مصیبت زدہ بچے کے حوالے سے کال آتی ہے تو متعلقہ حکام بچی کی حفاظت کے لیے فوری ایکشن لیتے ہیں۔
حالیہ واقعے میں یادگیر ضلع کے شاہ پور تعلقہ کے رہائشی اسکول کی نویں جماعت کی ایک لڑکی نے ہاسٹل کے بیت الخلا میں ایک بچے کو جنم دیا۔
محکمہ سماجی بہبود کے زیر انتظام اس اسکول میں پیش آنے والے اس واقعے نے ریاست کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس کے فوراً بعد شیواموگا میں بھی ایسا ہی واقعہ پیش آیا۔ اپنے ہی بھائی کے ہاتھوں زیادتی کا نشانہ بننے والی 15 سالہ لڑکی نے گھر کے بیت الخلا میں بچے کو جنم دیا۔