بین الاقوامی ہیومن رائٹس گروپس نے انکشاف کیا ہے کہ ایران میں جاری پرتشدد مظاہروں میں اب تک کم از کم 2 ہزار 571 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں 2 ہزار 403 مظاہرین اور 147 سیکیورٹی اہلکار شامل ہیں۔
خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق ایرانی حکام نے بھی جانی نقصان کی تصدیق کی ہے اور اسے تسلیم کیا ہے کہ ملک میں حالیہ ہنگاموں میں ہزاروں افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور انہیں ایران میں ہونے والے مظاہروں کے دوران شرپسند عناصر کو امریکی اور اسرائیلی پشت پناہی حاصل ہونے سے آگاہ کیا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے زور دیا کہ ایران اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔
یو اے ای کے وزیر خارجہ نے ایرانی ہم منصب سے رابطے کے دوران خطے میں مسلسل مشاورت اور ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیا۔ اس کے علاوہ ایرانی وزیر خارجہ نے ترک ہم منصب سے بھی رابطہ کیا اور ملک میں مظاہروں اور سلامتی کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
عالمی میڈیا سے گفتگو میں ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ سفارتی رابطے ٹوٹ چکے ہیں اور خطے کے ممالک کو چاہیے کہ وہ فوجی کارروائی روکنے میں کردار ادا کریں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ نے حملہ کیا تو ایران بھی امریکی اڈوں کو نشانہ بنائے گا، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔
برطانوی میڈیا کی تازہ رپورٹ کے مطابق ایران میں کرنسی کی قدر میں شدید کمی، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حالیہ مظاہروں کے باوجود حکومت کے گرنے کے کوئی واضح آثار سامنے نہیں آئے ہیں۔
دوسری جانب ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے بانی ایلون مسک نے ایران میں مفت اسٹار لنک انٹرنیٹ سروس فراہم کر دی ہے کیونکہ ایران میں کئی روز سے انٹرنیٹ بند ہے اور ہلاکتوں کی درست تعداد معلوم کرنا بھی مشکل ہو گیا۔