ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

پہلی بیوی کی اجازت کے بغیر دوسری شادی پر فوجداری و دیوانی کارروائی ہو سکتی ہے، سپریم کورٹ


اسلام آباد:

سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ پہلی بیوی کی اجازت اور ثالثی کونسل کی منظوری کے بغیر دوسری شادی کرنا مسلم فیملی لاز آرڈیننس کی خلاف ورزی ہے، جس پر شوہر کو فوجداری اور دیوانی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

عدالتِ عظمیٰ نے اس حوالے سے پانچ صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے، جو جسٹس مسرت ہلالی نے تحریر کیا۔

سپریم کورٹ نے نائلہ جاوید کیس میں فیملی کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار دیتے ہوئے شوہر کو خاتون کو حق مہر کی 12 لاکھ روپے کی رقم ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ تنسیخِ نکاح ایکٹ کے تحت اگر شوہر بیوی کی رضامندی کے بغیر دوسری شادی کرے تو خاتون نکاح ختم کرنے کی حقدار ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ ثالثی کونسل کی اجازت کے بغیر دوسری شادی کرنا مسلم فیملی لاز آرڈیننس کے سیکشن 6 کی صریح خلاف ورزی ہے۔

عدالت کے مطابق اس کیس میں شوہر نے نہ پہلی بیوی سے تحریری اجازت لی اور نہ ہی ثالثی کونسل سے منظوری حاصل کی، جس کا اعتراف خود شوہر نے بھی کیا۔ دورانِ مقدمہ شوہر کی جانب سے دوسری شادی کرنا بھی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔


Express News

بغیر اجازت دوسری شادی کرنے پر پہلی بیوی کو فسخ نکاح کا حق دینا غیرشرعی قرار

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ عدالتیں بیوی کا بیان ریکارڈ کیے بغیر طلاق کے مطالبے کو خلع میں تبدیل نہیں کر سکتیں۔ عدالت نے اپنے سابقہ فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خلع خاتون کی واضح اور رضاکارانہ رضامندی کے بغیر ممکن نہیں۔

فیصلے میں کہا گیا کہ نائلہ جاوید نے نکاح ختم کرنے کی درخواست ظلم اور قانونی بنیادوں پر دائر کی تھی، تاہم فیملی کورٹ نے ظلم کے الزامات پر فیصلہ دینے کے بجائے خلع کی بنیاد پر نکاح ختم کر دیا اور خاتون کو حق مہر چھوڑنے کا حکم دیا، حالانکہ خاتون نے خلع کا مطالبہ ہی نہیں کیا تھا۔

عدالت نے مزید کہا کہ شوہر کی جانب سے نان نفقہ کی عدم ادائیگی، دورانِ جرح خاتون کی کردار کشی اور دوسری شادی جیسے عوامل قانونی طور پر ظلم کے زمرے میں آتے ہیں۔ ایسے حالات میں خاتون کا شوہر کے ساتھ رہنے سے انکار نافرمانی نہیں بلکہ جائز حق ہے۔

سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ پہلی بیوی کی اجازت اور ثالثی کونسل کی منظوری کے بغیر دوسری شادی کرنے والے شوہر کو قانونی نتائج کا سامنا کرنا ہوگا، اور ایسی صورت میں خاتون کو نکاح ختم کرانے اور اپنے مالی حقوق حاصل کرنے کا مکمل حق حاصل ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں