بنگلا دیش میں عام انتخابات کے دن کو ملکی تاریخ کا ایک نئے باب کا آغاز قرار دیتے ہوئے بنگلادیش کے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس نے کہا ہے کہ آج کا دن قوم کو ہر سطح پر ایک نیا بنگلادیش تشکیل دینے کا نادر موقع فراہم کر رہا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق بنگلادیش کے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس نے ڈھاکا کے علاقے گلشن میں قائم ماڈل اسکول کے پولنگ اسٹیشن میں اپنا ووٹ ڈالا، جہاں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کے ساتھ ووٹنگ کا عمل منظم اور پُرامن انداز میں جاری ہے۔
ڈھاکا میں ووٹ کاسٹ کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو میں چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس نے عوام پر زور دیا کہ وہ نہ صرف پارلیمانی انتخابات بلکہ ریفرنڈم میں بھی بھرپور شرکت کو یقینی بنائیں، کیونکہ دونوں مراحل ملک کے سیاسی مستقبل کے تعین میں یکساں اہمیت رکھتے ہیں۔
پروفیسر محمد یونس کا کہنا تھا کہ یہ دن محض ایک انتخابی مرحلہ نہیں بلکہ آزادی، خودمختاری اور نئے خوابوں کی تعبیر کی علامت ہے، یہ وہ موقع ہے جب پوری قوم مل کر ایک نئے بنگلادیش کی بنیاد رکھ سکتی ہے، جہاں شفافیت، انصاف اور ترقی کو مرکزی حیثیت حاصل ہو۔
انہوں نے شہریوں کو دعوت دی کہ وہ اس تاریخی لمحے کو ایک طویل جشن کی صورت میں منائیں اور آج کے دن کو ایک نئی قومی سالگرہ سمجھیں۔
واضح رہے کہ بنگلا دیش میں عام انتخابات کے لیے ووٹنگ کا عمل جاری ہے، جس میں 50 سیاسی جماعتیں حصہ لے رہی ہیں، 12 کروڑ 70 لاکھ سے زائد ووٹرز اپنے حقِ رائے دہی استعمال کر رہے ہیں، جن میں تقریباً 44 فیصد نوجوان شامل ہیں، ملک بھر کے 299 حلقوں میں پولنگ کا آغاز مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے سات بجے ہوا تھا، جو شام ساڑھے چار بجے تک جاری رہے گی۔
انتخابی عمل کے دوران مجموعی طور پر 1981 امیدوار میدان میں ہیں، جن میں 250 سے زائد آزاد حیثیت میں مقابلہ کر رہے ہیں جبکہ پولنگ کے پرامن انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے ملک بھر میں سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں اور فوج کو تعینات کر دیا گیا ہے، اس کے علاوہ امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے تین روز کے لیے موٹر سائیکل کی سواری پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
بنگلادیش میں قومی پارلیمانی انتخابات کے تناظر میں کیے گئے حالیہ عوامی سروے کے نتائج نے سیاسی منظرنامے کو مزید دلچسپ بنا دیا ہے، جہاں بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) اور بنگلادیش جماعتِ اسلامی کی قیادت میں قائم انتخابی اتحاد کے درمیان انتہائی سخت اور کانٹے دار مقابلے کی پیشگوئی سامنے آئی ہے۔