سری نگر/جموں و کشمیر حکومت مختلف محکموں میں تعینات ڈیلی ویجرملازمین اور ورکروں کی مرحلہ وار مستقلی کے طریقہ کار پر غور کر رہی ہے۔ یہ بات نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری نے جمعہ کو کہی۔کشمیر ایکسپو 2026 کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چودھری نے کہا کہ ڈیلی ویجرز کے مطالبات جائز اور حقیقی ہیں، تاہم انہوں نے ملازمین سے صبر کا مظاہرہ کرنے اور اس معاملے کو سیاسی رنگ نہ دینے کی اپیل کی۔انہوں نے کہا کہ روزانہ اجرت پر کام کرنے والے ملازمین کی مستقلی نیشنل کانفرنس کے انتخابی منشور میں کیا گیا وعدہ ہے، جبکہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی قانون ساز اسمبلی میں یقین دہانی کرائی ہے کہ اس معاملے کو حل کیا جائے گا۔
نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مختلف محکموں میں بڑی تعداد میں ڈیلی ویجرز خدمات انجام دے رہے ہیں اور انہیں مستقل کیے جانے کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں مساوی حقوق ملنے چاہئیں۔چودھری کے مطابق چیف سیکریٹری کی سربراہی میں ایک کمیٹی اس معاملے کا جائزہ لے رہی ہے اور حکومت ڈیلی ویجرز کی مستقلی کے لیے مرحلہ وار حل کی جانب پیش رفت کر رہی ہے۔انہوں نے ملازمین سے ہڑتال پر نہ جانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ حکومتی نظام کا ایک اہم حصہ ہیں اور حکومت ان کے جائز مطالبات کو حل کرے گی۔
کشمیر ایکسپو 2026 کے حوالے سے نائب وزیر اعلیٰ نے کاریگروں، افسران اور مختلف محکموں کی جانب سے جموں و کشمیر کے روایتی ورثے کے تحفظ اور دستکاری مصنوعات کے فروغ کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہا۔انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ روایتی مصنوعات، بالخصوص کشمیری شالیں خریدیں اور مقامی کاریگروں کی حوصلہ افزائی کریں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری شالیں کسی بھی برانڈڈ مصنوعات سے کم قیمتی نہیں ہیں اور مقامی مصنوعات کی حمایت سے کاریگروں کو خطے کے بھرپور ثقافتی ورثے کو محفوظ رکھنے کی ترغیب ملے گی۔
’وندے ماترم‘ کے حوالے سے سوال پر چودھری نے کہا کہ اس گیت کا ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد کے ساتھ تاریخی تعلق ہے اور اسے شہیدوں اور آزادی کے متوالوں کا گیت قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ عوام کو اپنے جائز مطالبات اٹھانے کا حق حاصل ہے اور لداخ میں اٹھائے جانے والے مطالبات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر بھی ریاستی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ کر رہا ہے۔