کوپرٹینو: ایپل نے اپنے پہلے فولڈ ایبل مہنگے ترین اسمارٹ فون ‘آئی فون ڈیو’ کی رونمائی کے ساتھ ہی اس مارکیٹ میں قدم رکھ دیا ہے، جس کی شروعاتی قیمت 1,999 ڈالر (پاکستانی ساڑھے 5 لاکھ سے زائد) رکھی گئی ہے۔ اس مہنگی ترین لانچنگ کے بعد سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس مہنگے ترین فون کو آخر خریدے گا کون؟
کی رپورٹ کے مطابق، ماہرین کہتے ہیں کہ ایپل کی مضبوط برانڈ ویلیو اسے ابتدائی اور زبردست فروخت دلانے کے لیے کافی ہوگی، ڈیوائس کی زیادہ قیمت اور ہدف کے بارے میں ایپل کی واضح حکمت عملی کی کمی اسے صرف امیر اور شوقین صارفین تک محدود کر سکتی ہے۔
‘آئی فون ڈیو’ فولڈ ہونے پر یہ ایک پاسپورٹ کی شکل اختیار کرلیتا ہے، جس کی باہر کی طرف 5.4 انچ اور کھولنے پر اندر کی جانب 7.6 انچ کی بڑی ڈسپلے سکرین موجود ہے۔
ایپل نے اس ڈیوائس کو پیشہ ورانہ امور، ملٹی ٹاسکنگ اور زوم یا سلیک جیسی ایپس کے بہترین استعمال کے لیے ایک بزنس ٹول کے طور پر پیش کیا ہے۔
واضح رہے کہ سیمسنگ اور ہواوے جیسی کمپنیاں سالوں سے فولڈ ایبل فونز فروخت کر رہی ہیں، لیکن عالمی مارکیٹ میں فولڈ ایبلز کا حصہ اب بھی 2 فیصد سے کم ہے۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ایپل کے مارکیٹ میں آنے سے اس شعبے میں شدید مقابلہ دیکھنے میں آسکتا ہے۔
صارفین اور مارکیٹ کے ماہرین کو اس کی بھاری قیمت نے سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ آیا عام صارف اس مہنگے ترین فون کو خریدے گا یا نہیں۔