ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

سندھ اسمبلی میں سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2026ء کثرت رائے سے منظور

اپوزیشن کا شدید احتجاج، بل کی کاپیاں پھاڑ دیں، جماعت اسلامی کا عدالت جانے کا اعلان

September 14, 2026 · اہم خبریں, قومی

فائل فوٹو

کراچی: سندھ اسمبلی نے بلدیاتی قوانین میں ترامیم کے لیے سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2026ء کثرت رائے سے منظور کرلیا، جبکہ اپوزیشن ارکان نے احتجاجاً بل کی کاپیاں پھاڑ دیں اور ایوان میں نعرے بازی کی۔

سندھ اسمبلی کے اجلاس میں وزیر قانون ضیا الحسن لنجار نے بلدیاتی قوانین میں ترامیم سے متعلق سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2026ء پیش کیا۔ بل پیش ہوتے ہی ایوان میں ہنگامہ شروع ہوگیا، اپوزیشن ارکان نے شور شرابہ کیا اور بل کی کاپیاں پھاڑ دیں۔ اسی دوران ووٹنگ ہوئی اور سندھ اسمبلی نے بل کثرت رائے سے منظور کرلیا، جس کے بعد اجلاس منگل کے روز سہ پہر تین بجے تک ملتوی کردیا گیا۔

اجلاس کے بعد اپوزیشن ارکان نے بل کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کا اعلان کیا۔ اپوزیشن رکن شبیر قریشی نے کہا کہ لوکل بل مسترد کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 2023ء میں ہارس ٹریڈنگ کے ذریعے مرتضیٰ وہاب کو ان پر مسلط کیا گیا تھا، دوبارہ یہی لوگ ہوں گے تو دھاندلی کا گمان یقین میں بدل جائے گا۔

جماعت اسلامی کے رکن محمد فاروق نے کہا کہ لوکل باڈی ایکٹ میں اختیارات ہی نہیں ہیں، 18ویں ترمیم کے بعد انہوں نے سارے اختیارات خود رکھ لیے، جبکہ جو ترمیم انہوں نے پیش کی تھی اسے نظر انداز کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بل لوگوں کی حفاظت نہیں کرتا، اسے مسترد کرتے ہیں۔

محمد فاروق کے مطابق اس ترمیم میں سیاسی منتخب لوگ الیکشن نہ ہونے کی صورت میں سیاسی ایڈمنسٹریٹر بن جائیں گے۔ پی ٹی آئی، جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم نے مکمل طور پر اس کی مخالفت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی اس بل کے خلاف کھڑی ہے، یہ بل جمہوریت دشمن ہے اور جماعت اسلامی اس کے خلاف عدالت جائے گی۔

ایم کیو ایم کے قائد حزب اختلاف علی خورشیدی نے کہا کہ سیاسی آمریت چل رہی ہے، اسمبلی سیشن میں تمام بزنس کو ایک طرف کرکے یک دم بل منظور کرلیا گیا۔ ان کے مطابق پارلیمان کے اندر اور باہر تمام سیاسی جماعتیں اس بل کو مسترد کرتی ہیں۔

علی خورشیدی نے کہا کہ ایک طرف پیپلز پارٹی اور دوسری طرف عوام ہیں، بلدیاتی اختیارات کی بات سب کرتے ہیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ موجود ہے مگر سندھ حکومت یہ بل پاس کرکے عدالتی فیصلے کی توہین کر رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ اکثریت کی بنیاد پر غلط فیصلے کر رہے ہیں، کل فیصلہ کریں گے کہ وزیر قانون چیف جسٹس بن جائیں۔ جو انتظامی یونٹس موجود ہیں، ان کو اختیار نہیں دے رہے۔ حکومت کا آمرانہ رویہ ہے اور ایسی جمہوریت کو سندھ کے عوام مسترد کرتے ہیں۔

ایم کیو ایم کے رکن افتخار عالم نے کہا کہ ان کے موقف کو نہیں سنا گیا، سپریم کورٹ کا فیصلہ موجود ہے اور اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ کمیٹی کے اندر بھی احتجاج کیا تھا، آج ایوان میں بھی احتجاج کیا اور اس بل کو مسترد کرتے ہیں۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں