ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

دہلی یونیورسٹی ٹیچرس ایسوسی ایشن کے 3 بار صدر رہ چکے آدتیہ نارائن مشرا نے تھاما کانگریس کا ’ہاتھ‘

دہلی یونیورسٹی ٹیچرس ایسوسی ایشن (ڈی یو ٹی اے) کے 3 بار صدر رہ چکے ڈاکٹر آدتیہ نارائن مشرا سمیت کئی ماہرین تعلیم اور دانشور پیر کو کانگریس میں شامل ہو گئے۔ کانگریس ہیڈکوارٹر میں منعقد ایک پروگرام میں دہلی پردیش کانگریس کے انچارج قاضی نظام الدین، پردیش کانگریس صدر دیویندر یادو اور پارٹی کے درج فہرست ذات شعبے کے قومی صدر راجندر پال گوتم نے سبھی کو پٹکا پہنا کر باقاعدہ طور پر پارٹی میں شامل کرایا۔ کانگریس کی رکنیت لینے کے بعد ڈاکٹر آدتیہ نارائن مشرا نے کہا کہ ’’ہم لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی کا ہاتھ مضبوط کرنے کے لیے کانگریس میں شامل ہو رہے ہیں، جو یونیورسٹیوں اور بالخصوص تعلیم پر ہونے والے تمام حملوں کے خلاف مسلسل آواز اٹھا رہے ہیں۔‘‘

ڈاکٹر آدتیہ نارائن مشرا نے راہل گاندھی سے متعلق مزید کہا کہ ’’وہ سرکاری مالی امداد حاصل کرنے والے اداروں کے تحفظ اور ہر فرد کے لیے انصاف اور وقار برقرار رکھنے کی لڑائی لڑ رہے ہیں۔ ہم اس عظیم جدوجہد کا حصہ بننے کے لیے کانگریس میں شامل ہو رہے ہیں۔‘‘ ان کے مطابق ہزاروں اسکول بند کیے جا چکے ہیں اور اعلیٰ تعلیم بھی اس حملے کی زد میں ہے۔ یہ نظام کے انہدام کی صورتحال ہے۔ پورے ملک کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہم ایک بڑے انہدام کے دہانے پر ہیں جو دن و رات جاری ہے۔

اس موقع پر دہلی پردیش کانگریس صدر دیویندر یادو نے کہا کہ ’’میں آدتیہ نارائن مشرا جی کا ’انڈین نیشنل کانگریس‘ میں خیرمقدم کرتا ہوں۔ وہ 3 بار دہلی یونیورسٹی ٹیچرس ایسوسی ایشن کے صدر رہ چکے ہیں۔ آج ملک کے طلبہ کو صحیح سمت دینے کی ضرورت ہے۔ ایسے میں اگر انہیں بہتر رہنمائی ملتی ہے تو آنے والا مستقبل صحیح راستے پر آگے بڑھے گا۔‘‘ دہلی پردیش کانگریس کے انچارج قاضی نظام الدین نے کہا کہ ’’آج ڈاکٹر آدتیہ نارائن مشرا اپنے کئی ساتھیوں کے ساتھ کانگریس میں شامل ہو رہے ہیں۔ میں ان کا دل کی گہرائیوں سے خیرمقدم کرتا ہوں۔ آج حالات یہ ہیں کہ اپنے حقوق کے لیے طلبہ کو سڑکوں پر اترنا پڑا، دھرنا دینا پڑا اور پولیس کی لاٹھیاں کھانی پڑیں۔ یہی نہیں طلبہ کو انصاف دلانے کے لیے حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی کو تھانے جا کر جدوجہد کرنی پڑی۔ مجھے پورا یقین ہے کہ آپ سب کی فکری صلاحیتوں سے کانگریس پارٹی کو بہت فائدہ ہوگا۔‘‘

کانگریس کے درج فہرست ذات شعبے کے قومی صدر راجندر پال گوتم نے اس موقع پر کہا کہ ’’میں آدتیہ نارائن مشرا اور ان کے ساتھیوں کا خیرمقدم کرتا ہوں، کیونکہ انہوں نے آج جمہوریت، آئین اور تعلیمی نظام کو بچانے کی سمت میں قدم اٹھایا ہے۔ وہ ہمیشہ سے پروفیسروں اور طلبہ کی آواز اٹھاتے آئے ہیں اور سبھی ان پر بھروسہ کرتے ہیں۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’آج ہر روز آر ایس ایس-بی جے پی کا کوئی نہ کوئی لیڈر دہلی یونیورسٹی آتا ہے اور ان کے پروگراموں میں کروڑوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں۔ آر ایس ایس-بی جے پی کے پروگراموں میں جتنی رقم خرچ کی جاتی ہے، اتنی رقم سے کئی ہاسٹل بن سکتے تھے اور ستیہ نکیتن جیسے واقعات پیش نہیں آتے۔‘‘ ان کے مطابق بی جے پی حکومت نے تعلیم مہنگی کر دی ہے۔ غریب ہی نہیں، عام خاندان بھی بچوں کی اعلیٰ تعلیم کے لیے پریشان ہو رہے ہیں، کیونکہ یہ حکومت چاہتی ہی نہیں کہ ملک کے بچے تعلیم حاصل کر سکیں۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں