لدھیانہ/پنجاب کے صنعتی شعبے نے ایمپلائز پروویڈنٹ فنڈ آرگنائزیشن (ای پی ایف او) کے تحت لازمی کوریج کے لیے ماہانہ تنخواہ کی حد 15 ہزار روپے سے بڑھا کر 25 ہزار روپے کرنے کی تجویز پر تشویش ظاہر کی ہے۔ صنعتی شعبے نے وزیر اعظم نریندر مودی سے اس تجویز پر نظرثانی کرنے کی اپیل کی ہے۔
ورلڈ ایم ایس ایم ای فورم کے صدر بادیس جندل نے جمعرات کو وزیر اعظم کو خط لکھ کر کہا کہ اس تبدیلی سے خاص طور پر چھوٹی ، انتہائی چھوٹی اور درمیانہ درجہ کی صنعتوں (ایم ایس ایم ای) اور محنت پر مبنی مینوفیکچرنگ یونٹوں پر اضافی مالی بوجھ پڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق 15 ہزار روپے کی حد پر آجر کا ای پی ایف تعاون 1800 روپے ماہانہ ہوتا ہے، جو 25 ہزار روپے کی حد پر بڑھ کر 3000 روپے ہوجائے گا۔ اس طرح فی ملازم ماہانہ 1200 روپے یا سالانہ 14,400 روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔
خط کے مطابق 100 ملازمین والی یونٹ پر سالانہ اضافی بوجھ تقریباً 14.40 لاکھ روپے اور 500 ملازمین والی یونٹ پر تقریباً 72 لاکھ روپے ہوسکتا ہے۔ حکومت کے مطابق اس تبدیلی سے 51 لاکھ سے زیادہ اضافی ملازمین لازمی ای پی ایف او کوریج کے دائرے میں آسکتے ہیں۔ صنعتی نمائندوں نے سماجی تحفظ کو وسعت دینے کے مقصد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ایم ایس ایم ای اور محنت پر مبنی صنعتوں پر پڑنے والے اضافی اخراجات کا بھی جائزہ لیا جانا چاہیے۔