سری نگر/جموں و کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ ریاست کے ہر سیاحتی مقام کو گلمرگ کی طرز پر ترقی دینا ممکن نہیں، بلکہ ہر مقام کی اپنی شناخت، خصوصیات اور سیاحتی صلاحیت کے مطابق ترقیاتی منصوبے مرتب کیے جانے چاہئیں۔
منگل کو اسمبلی میں سیاحت کی ترقی سے متعلق سوالات کا جواب دیتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ ہر سیاحتی مقام کی اپنی الگ شناخت ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ گلمرگ گونڈولا کی کامیابی کا یہ مطلب نہیں کہ اسی طرز کے منصوبے ہر سیاحتی مقام پر یکساں طور پر کامیاب ہوں گے۔انہوں نے کہا، ’’ہم ہر سیاحتی مقام کو گلمرگ نہیں بنا سکتے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ صرف یہ دلیل دینا کہ کسی مقام پر گونڈولا قائم کرنے سے وہاں سیاحت بحال یا فروغ پائے گی، درست نہیں ہے۔وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ حکومت ہر سیاحتی مقام کی نوعیت اور صلاحیت کو مدنظر رکھتے ہوئے مختلف نوعیت کے سیاحتی منصوبے تیار کرے گی اور انہیں فروغ دے گی۔
عمر عبداللہ نے بتایا کہ محکمہ سیاحت جموں خطے میں سیاحت کو فروغ دینے اور اسے متنوع بنانے کے لیے جامع اور کثیرالجہتی حکمتِ عملی پر کام کر رہا ہے، جس میں مذہبی، تاریخی، ایڈونچر، ماحولیاتی، قدرتی، دیہی، ثقافتی، فلاحی اور تفریحی سیاحت شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے نئے سیاحتی مقامات کی نشاندہی شروع کر دی ہے اور مقامی اسٹیک ہولڈرز کے علاوہ محکمہ ریونیو اور محکمہ جنگلات کے ساتھ مشاورت سے ان مقامات کی سیاحتی صلاحیت کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ڈھوپا پتھری میں 2023 سے ایڈونچر ٹورازم کے تحت اسکیئنگ متعارف کرائی گئی ہے، جبکہ 2026 میں وہاں ڈریگ لفٹ بھی فعال کر دی گئی۔ گوڈا 3 میں مجوزہ گونڈولا کیبل کار منصوبہ بھی زیرِ غور ہے۔
عمر عبداللہ نے بتایا کہ دودھ پتھری کے قریب کرال پتھری میں شیپ فارم کے نزدیک تقریباً 25 کنال سرکاری اراضی کو مجوزہ سیاحتی ٹرانزٹ ہب اور 400 گاڑیوں کی پارکنگ کے لیے مختص کرنے کی نشاندہی کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ سوَدیش درشن 2.0 کے تحت مرکزی وزارتِ سیاحت کو 75 کروڑ روپے کی تفصیلی منصوبہ رپورٹ (DPR) بھیج دی گئی ہے۔اس کے علاوہ اریام سے ریئچ تک پانچ مقامات پر بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے حکومت نے 50 لاکھ روپے منظور کیے ہیں اور ان کاموں کے لیے ٹینڈرنگ کا عمل جاری ہے۔
بجلی کے بلوں کی معافی سے متعلق سوال پر عمر عبداللہ نے کہا کہ حکومت اس معاملے کا میرٹ کی بنیاد پر جائزہ لے رہی ہے، تاہم انہوں نے بار بار وسیع پیمانے پر بجلی بل معاف کرنے کی پالیسی کی مخالفت کی۔انہوں نے کہا کہ ’’بار بار معافی میں توسیع ان لوگوں کے ساتھ ناانصافی ہے جو باقاعدگی سے اپنے بجلی کے بل ادا کرتے ہیں۔‘‘
وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ اس طرح صارفین کو وقت پر بجلی کے بل ادا نہ کرنے کی ترغیب مل سکتی ہے۔تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایسے صارفین جو واقعی مالی مشکلات کا شکار ہیں، خصوصاً خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے اور بجلی کے بل ادا کرنے کی استطاعت نہ رکھنے والے افراد کے معاملات پر انفرادی طور پر میرٹ کی بنیاد پر غور کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ جن افراد کے لیے بجلی بلوں کی معافی واقعی ضروری ہو، حکومت ان کے معاملے پر میرٹ کی بنیاد پر ضرور غور کرے گی۔