سرینگر/اقتصادی جرائم ونگ (ای او ڈبلیو)، کرائم برانچ کشمیر نے پلوامہ کے ایک رہائشی کے خلاف مبینہ طور پر لیفٹیننٹ گورنر جموں و کشمیر کے جعلی سرکاری لیٹر ہیڈ اور دستخط استعمال کرکے اننت ناگ ضلع پولیس انتظامیہ کے کام کاج پر اثرانداز ہونے کی کوشش کے معاملے میں چارج شیٹ عدالت میں پیش کردی ہے۔
کرائم برانچ کے ترجمان نے بتایا کہ ای او ڈبلیو کرائم برانچ کشمیر نے کیس ایف آئی آر نمبر 29/2026 کے تحت بھارتیہ نیائے سنہتا (BNS) کی دفعات 204، 319(2)، 336(2) اور 340(2) کے تحت ملزم ثقلین مشتاق ڈار ولد مشتاق احمد ڈار، ساکن دیری پلوامہ کے خلاف سب جج سری نگر کی عدالت میں چارج شیٹ پیش کی ہے۔
ترجمان کے مطابق یہ معاملہ ایک ایسی جعلی تحریری مراسلت سے متعلق ہے جو مبینہ طور پر سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) اننت ناگ کے نام بھیجی گئی تھی۔ اس مراسلت میں مبینہ طور پر جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر کی نقالی کی گئی تھی۔ مبینہ طور پر جعلی سرکاری لیٹر ہیڈ اور فرضی دستخط استعمال کرتے ہوئے یہ خط تیار کیا گیا تھا، جس کا مقصد اننت ناگ ضلع پولیس انتظامیہ کے کام میں غیر قانونی طور پر اثرانداز ہونا تھا۔
ترجمان نے بتایا کہ تحقیقات کے دوران جمع کیے گئے شواہد اور سامنے آنے والے حقائق سے متعلقہ دفعات کے تحت جرائم کے ارتکاب کے الزامات کی تصدیق ہوئی۔ اس کے بعد تحقیقات کو ’’ثابت شدہ‘‘ (Proved) قرار دیتے ہوئے مکمل کیا گیا اور معاملہ عدالتی تعین کے لیے عدالت میں چارج شیٹ کی صورت میں پیش کیا گیا۔
ای او ڈبلیو نے عام لوگوں کو سرکاری حکام کی نقالی، جعلی خطوط، دستاویزات، سرکاری لیٹر ہیڈ اور دستخط تیار کرنے یا استعمال کرنے کی کوششوں سے محتاط رہنے کی اپیل کی ہے۔
عوام سے کہا گیا ہے کہ سرکاری اداروں یا عوامی عہدیداروں کی جانب سے جاری ہونے کا دعویٰ کرنے والی کسی بھی مشکوک مراسلت کی صداقت کی لازماً تصدیق کریں اور ایسے کسی بھی معاملے کی فوری اطلاع اقتصادی جرائم ونگ، کرائم برانچ جموں و کشمیر کو دیں۔