ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو استعفیٰ دینا ہوگا: سریندر چودھری

گاندربل/نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت کے تحفظ کے لیے ملک میں ایک شفاف، فعال اور غیر جانبدار الیکشن کمیشن کا ہونا ضروری ہے۔
سریندر چودھری نے بدھ کے روز گاندربل میں ماتا کھیر بھوانی مندر کے دورے کے دوران نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کے خلاف جاری احتجاج پر ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کی جانب سے اٹھائے جانے والے سوالات کو دبانے کے بجائے ان کا جواب دیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا، ’’اگر نوجوان اور عوام یہ سمجھتے ہیں کہ گیانیش کمار کو استعفیٰ دینا چاہیے تو انہیں استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ نوجوان سڑکوں پر ہیں اور گیانیش کمار کو استعفیٰ دینا ہوگا۔‘‘
نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ملک کے تعلیم یافتہ نوجوان بے روزگاری کا سامنا کر رہے ہیں، حالانکہ ان کے والدین نے انہیں تعلیم دلانے کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوان آج روزگار کا مطالبہ کر رہے ہیں، لیکن تعلیم مکمل کرنے کے باوجود انہیں سرکاری یا نجی شعبے میں ملازمتیں نہیں مل رہی ہیں۔
ووٹوں کی چوری کے الزامات کا حوالہ دیتے ہوئے چودھری نے کہا کہ نوجوان انتخابی عمل پر سوالات اٹھا رہے ہیں، لیکن ان کے خدشات دور کرنے کے بجائے طاقت کا استعمال کیا جا رہا ہے۔
انہوں نےکہا، ’’نوجوانوں کا کہنا ہے کہ انہیں روزگار نہیں دیا جا رہا اور ان کے ووٹ بھی چوری کیے جا رہے ہیں۔ ان کے سوالات کا جواب دینے کے بجائے ان پر لاٹھیاں برسائی جا رہی ہیں۔ آخر یہ کیسا انصاف ہے؟‘‘
خواتین سمیت نوجوان مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال کی مذمت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آئین ملک کے شہریوں کو اظہارِ رائے کی آزادی اور پُرامن احتجاج کا حق دیتا ہے۔انہوں نے کہا، ’’یہ نوجوان ہمارے ملک کا مستقبل ہیں۔ طاقت کا استعمال کرکے ان کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔ یہ ظلم ہے اور اس طرح کا ظلم جاری نہیں رہ سکتا۔‘‘
سریندر چودھری نے کہا کہ جموں و کشمیر سمیت پورے ملک میں جمہوریت کو مضبوط بنانے کے لیے الیکشن کمیشن کا آزاد، شفاف اور غیر جانبدار ہونا ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا، ’’اگر ہم جموں و کشمیر اور پورے ہندوستان میں جمہوریت کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں، جسے ہم فخر سے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہتے ہیں، تو ہمیں ایک شفاف، فعال اور غیر جانبدار الیکشن کمیشن کو یقینی بنانا ہوگا۔‘‘
وقف بورڈ کی جانب سے جمعہ کے خطبوں کے لیے مشترکہ موضوعات تجویز کرنے سے متعلق تنازعے پر نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کسی بھی سیاسی جماعت کو کسی مذہبی برادری کے مذہبی معاملات میں مداخلت کرنے کا حق نہیں ہے۔
انہوں نے کہا، ’’چاہے ہندو مذہب ہو، اسلام، سکھ مت یا عیسائیت، کوئی بھی مذہب کسی سیاسی جماعت کو اپنے مذہبی معاملات میں مداخلت کرنے کا اختیار نہیں دیتا۔ مذہب ہمیشہ سیاست سے بالاتر رہا ہے اور اسے ایسا ہی رہنا چاہیے۔‘‘
چودھری نے مزید کہا کہ خدا ایک ہے، اگرچہ اس کی عبادت کے طریقے اور انداز مختلف ہو سکتے ہیں، لیکن کسی بھی سیاسی جماعت کو اپنا ایجنڈا کسی مذہب پر مسلط کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں