ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

نوبیاہتا دلہے کے’قاتل’ پولیس اہلکار حراست میں مارا گیا یا خودکشی کی؟معاملہ مشکوک ہوگیا

 پیر 17 جنوری کو کراچی کے ایک مقامی اخبار کے صفحہ آخر پر نمایاں طور پر خبر شائع ہوچکی ہے کہ کشمیر روڈ پر ماں اور بہن کے سامنے نوجوان شاہ رخ کو قتل کرنے کے الزام میں پولیس اہلکار سمیت 4 افراد کو حراست میں لیا گیا۔

اخبار میں دیگر ملزمان کے تو نہیں مگر پولیس اہلکار فرزند کا نام نمایاں طور پر شائع کیا گیا ہے اور اس کے ماضی کے جرائم کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔ حراست میں لیے گئے دیگر افراد میں فرزند کا مخبر اور دو دیگر مشتبہ افراد شامل ہیں۔

 اخبار کے مطابق یہ گرفتاریاں سرجانی ٹاون، گلشن معمار اور دیگر علاقوں سے عمل میں آئیں۔ اخبار میں خبر کی اشاعت کے لگ بھگ 20 گھنٹے بعد نصف شب کو گلشن اقبال بلاک 7 میں پولیس کے چھاپے کے دوران کانسٹیبل فرزند علی جعفری کی خودکشی میں موت سامنے آئی ہے۔

 پولیس کے مطابق چھاپے کے دوران پولیس کا گھیراؤ دیکھ کر ملزم فرزند جعفری نے خود کو کنپٹی پر گولی مار لی اور موقع پر ہلاک ہوگیا۔ سوشل میڈیا پر متوفی فرزند جعفری کی ہلاکت کے فوری بعد کی ویڈیو بھی سامنے آئی ہے جس میں چھاپہ مارنے والے مبینہ پولیس اہلکار میت سے بدکلامی کرتے سنائی دیتے ہیں۔

 ابھی ملزم کی لاش اسپتال نہیں پہنچائی جا سکی تھی کہ اس کی مبینہ خودکشی میں ہلاکت کے ایک گھنٹے کے اندر اندر اس کی مختلف پروفائل تصاویر اور ماضی کے جرائم اور اس کی گرفتاریوں اور وارداتوں کی تفصیلات سامنے آگئیں۔

کراچی پولیس کے اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ کے انچارج ایس ایس پی عارف عزیز نے سوشل میڈیا پر ایسی اطلاعات سامنے آنے پر متوفی فرزند علی جعفری کے زیرحراست ہونے کی سختی سے تردید کی ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں