نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹوئٹر نے بھارت میں حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی کے آفیشل اکاؤنٹ پر پوسٹ کیا گیا متنازع کارٹوں ہٹادیا۔ بی جے پی گجرات نے احمد آباد دھماکا کیس میں عدلیہ کے فیصلے کو سراہتے ہوئے مسلمانوں کے گلے میں پھندے کا خاکہ سوشل میڈیا پر جار ی کیا تھا۔ کارٹوں کے ساتھ لکھا گیا تھا کہ آخر میں سچ کی جیت ہوتی ہے اوردہشت گردی پھیلانے والوں کو بخشا نہیں جائے گا۔حکمراں جماعت کے سرکاری اکاؤنٹ پر انتہاپسندی کے مظاہرے پر دنیا بھر میں کڑی تنقیدکا نشانہ بنایا گیا،جس کے بعد بالآخر ٹوئٹر انتظامیہ متنازع پوسٹ ہٹانے پر مجبور ہوگئی ۔ بھارتی صحافی رانا ایوب نے امریکی صدر جو بائیڈن اور نائب صدر کملا ہیرس کو ٹیگ کرتے ہوئے لکھا کہ یہ نریندر مودی کی پارٹی بی جے پی کا ٹوئٹر ہینڈل ہے۔مودی اور اْن کی مسلم دشمنی کو بڑھاوا دینے کے ذمے دار امریکا اور دیگر ’جمہوری ممالک ہیں۔حیدرآباد سے رکن پارلیمان اسدالدین اویسی نے کے مطابق کارٹون جرمنی میں یہودیوں کی نسل کشی کے لیے استعمال کیے گئے تھے۔ آسٹریلیا کے صحافی آئن ولفورڈ نے بھی بی جے پی پر تنقید کرتے ہوئے لکھا دنیا کو بہت اچھی طرح پتا ہے کہ آپ کیا پیغام دے رہے ہیں۔ مودی سرکار نے اپنے اکاؤنٹ سے ڈیڑھ کروڑ فالورز کو نسل کشی کا پیغام دیا ہے۔ اس گھٹیا حرکت کی دنیا بھر میں مذمت ہونی چاہیے۔یاد رہے کہ 18 فروری کو بھارت عدالت نے گجرات میں ہونے والے بم دھاکوں کے ملزمان کو سزائیں سنائی تھیں۔