کیف/ماسکو/نیویارک/برسلز/اسلام آباد (صباح نیوز) یوکرین کے وزیر دفاع نے فوج کو روس کے خلاف تیار رہنے کا حکم دے دیا ہے۔اولکسی ریزنیکوف نے ویب سائٹ پر اپنے پیغام میں لکھا کہ جنگ کے لیے تیار رہیں جس میں سختیاں بھی ہیں اور نقصانات بھی ہیں، ہمیں درد کو برداشت اور اپنے خوف اور مایوسی پر قابو پانا ہوگا اور اگر ہم نے ایسا کرلیا تو ہماری فتح یقینی ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ روس ایک بار پھر سویت یونین کی تاریخ دہرا رہا ہے اور گزشتہ روز فوجی جارحیت سے اپنا اصل چہرہ بے نقاب کردیا۔علاوہ ازیں پاکستان میں یوکرین کے سفیر مارکیان چوچک نے کہا ہے کہ پاکستان جوہری طاقت ہے ،یوکرین پر روسی حملے کے پیش نظر ہماری مدد کرے تاکہ ہم روس کی جارحیت کے خلاف کامیاب ہوسکیں۔میڈیا بریفنگ میں ان کا کہنا تھا کہ یوکرین روسی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے، روس یوکرین پر حملہ کرکے قبضہ کرنا چاہتا ہے، گزشتہ 6ماہ میں یوکرین سرحد پر ڈیڑھ لاکھ سے زائد روسی فوجی تعینات ہو چکے ہیں، روسی حملے سے پوری دنیا میں کشیدگی پھیل جائے گی۔ادھرروس نے باغیوں کے زیر انتظام 2یوکرینی ریاستوں کی آزادی کو تسلیم کرلیا جس کے بعد روس اور یوکرین تنازع شدت اختیار کر گیا۔ روسی صدر پیوٹن نے یوکرین کی دو ریاستوں ڈونسیک اور لوہانسک میں روسی فوج داخل کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ خطاب میں پیوٹن نے کہا کہ یوکرین کے مشرقی علاقوں میں قتل عام مسلسل کئی سال سے جاری ہے، یوکرین کو نیٹو کا حصہ بنانے کا فیصلہ پہلے ہی کیا جاچکا ہے، جس کا مقصد فضائی راہداری کو کنٹرول میں رکھنا ہے۔دوسری جانب یورپی یونین اور امریکا نے یوکرین کے علیحدگی پسند علاقوںپر پابندیوں کا اعلان کر دیا۔ امریکا اور سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ نے بھی روسی صدر کے اقدام کی مذمت کی ہے ۔اقوام متحدہ میں امریکی سفیر لنڈا تھامس گرین فیلڈ نے کہا ہے کہ ڈونئیسک اور لوہانسک میں روسی فوج کے بطور امن فوج کا کردار ادا کرنے کا پیوٹن کا بیان احمقانہ ہے۔ امریکی سفیر نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ وہ اصل میں کیا ہیں، روس کے اقدامات کے نتائج سنگین ہوں گے،پیوٹن نے منسک معاہدے کی دھجیاں اڑائی ہیں۔دوسری جانب اقوام متحدہ میں روس کے سفیر واسیلی نیبنزیا کا اپنے بیان میں کہنا ہے کہ یوکرین تنازعے کے سفارتی حل کے لیے اب بھی تیار ہیں۔برطانوی ایلچی باربرا ووڈورڈ نے اپنے بیان میں کہاکہ سلامتی کونسل کو کشیدگی میں کمی لانے کے لیے روس پر زور ڈالنے پر متحد ہونا چاہیے۔اس معاملے پر چین کیسفیر ژانگ جون نے کہاکہ متعلقہ فریقوں کو تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے، فریقین ایسے اقدام سے گریز کریں جس سے کشیدگی کو ہوا ملے۔ جاپان کا کہنا ہے کہ روس پر پابندیاں لگانے میں امریکا، جی سیون ممالک کیساتھ شامل ہونے کو تیار ہیں۔
The post یوکرین روسی جارحیت کا جواب دیگا، پاکستان سے بھی مدد طلب، روسی فیصلہ احمقانہ ہے ، امریکا appeared first on Daily Jasarat News.