سائنس دانوں کے مطابق کورونا وائرس بچوں میں ذیابیطس کے خطرے میں اضافہ کر سکتا ہے۔
امریکہ بیماریوں پر قابو اور سدّباب مرکز CDC کے ماہرین نے مارچ 2020 سے جون 2021 کے دوران کووِڈ۔19 کے ذیابیطس پر اثرات کی تحقیق کی ہے۔
ماہرین نے ثابت کیا ہے کہ کووِڈ۔19 میں مبتلا ہونے والے بچوں میں صحت مند بچوں کے مقابلے میں ذیابیطس کا خطرہ ذیادہ بلند ہے۔
تحقیق کے مطابق کووِڈ۔19 انسولین پیدا کرنے والے خلیوں کو نقصان پہنچا کر ذیابیطس کے خطرے کو بڑھا دیتا ہے۔
مشی گن یونیورسٹی موٹ چائلڈ ہسپتال کے ڈاکٹر ایناس تھامس نے کہا ہے کہ ہسپتال میں داخل ہونے والے کووِڈ۔19 کے مریض بچوں کے 30 فیصد میں ٹائپ 1 ذیابیطس ظاہر ہوئی ہے۔
سان ڈیاگو ریڈی چائلڈ ہسپتال نے وباء کے پہلے سال یعنی 2020 میں 2019 کے مقابلے میں ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد میں تقریباً 60 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا ہے۔
تحقیق کے مطابق کووِڈ۔19 میں مبتلا ہونے والے پہلے سے ذیابیطس کے مریض بچوں میں صورتحال اور بھی شدت اختیار کر سکتی ہے۔
واضح رہے کہ ٹائپ ون ذیابیطس پِتّے کی انسولین پیدا کرنے کی صلاحیت کو روکنے یا کم کرنے کا سبب بنتی ہے۔