ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

چہروں کی بجائے نظام کو کیوں نہیں بدلا جاتا؟ نئے یا پُرانے چہروں سے عوام نمٹ سکتے، لانے والوں کا کیا کریں؟

سینئر صحافی ابصار عالم نے کہا ہے کہ اس بات پر بھی سوال اُٹھانے چاہیں کہ چہروں کی بجائے نظام کو کیوں نہیں بدلا جاتا؟ نئے یا پُرانے چہروں سے عوام نمٹ سکتے، لانے والوں کا کیا کریں؟

یہ بات انہوں نے سینئر صحافی انصار عباسی کے ایک ٹویٹ کے ردعمل میں کی۔ انصار عباسی نے عمران خان کو رخصت کرنے کے عمل کو غلط طریقہ کار قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہی لوگ بعد میں کہیں گے کہ کسی وزیراعظم کو پانچ سال پورے نہیں کرنے دیے گئے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری اپنے بیان میں انصار عباسی نے لکھا کہ کئی میڈیا والے بھی عمران خان کی مخالفت میں اتنا آگے چلے گئے کہ جانتے بوجھتے جو غلط ہو رہا ہے اُس کا ساتھ دے رہے ہیں کہ کسی طرح خان کی حکومت رخصت ہو۔ بعد میں کہیں گے کسی وزیر اعظم کو 5 سال پورے نہیں کرنے دیے گئے۔

صحافی وجیح احمد شیخ نے اس ٹویٹ کے ردعمل میں لکھا کہ بالکل اسی طرح جیسے کئی میڈیا والے نواز شریف اور دوسری اپوزیشن کی مخالفت میں اتنا آگے چلے گئے تھے 2018ء میں جانتے بوجھتے ہوئے کہ جو ہو رہا تھا سب ایک دھوکہ تھا عوام کے ساتھ۔

عمر چیمہ نے بھی اس کے جواب میں ٹویٹ لکھا جس میں انہوں نے کہا کہ آئینی طریقے سے ہٹانے کی کوشش کرنا غلط طریقہ تو نہیں ہے اگر عمران خان کے طریقے پر چلا جائے پھر تو پارلیمنٹ اور دیگر ریاستی عمارتوں پر حملے کرکے وزیراعظم کو ہٹانے کی کوشش کرنی چاہیے۔

اس پر انصار عباسی نے انھیں جواباً لکھا کہ نواز شریف کو بھی “آئینی طریقے” سے نکالا گیا تھا جس کی میں نے ہمیشہ مخالفت کی۔ عمر چیمہ آپ تو میرا خیال ہے بہت کچھ جانتے ہیں۔

انصار عباسی کا کہنا تھا کہ جب نواز شریف کو غلط وزارت عظمیٰ سے نکالا گیا تو اس کے خلاف آواز اُٹھائی جس پر پی ٹی آئی سوشل میڈیا والے بُرا بھلا کہتے رہے۔ آج عمران خان کے غلط نکالے جانے پر اسے بُرا سمجھتا ہوں اور اپنی رائے کا اظہار کر رہا ہوں تو اب مسلم لیگ ن سوشل میڈیا والے گالم گلوچ تک کرنے لگ گئے ہیں۔

سینئر صحافی ابصار عالم نے اس پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ انصار صاحب آپ زرداری، نواز شریف کے ادوار میں دلیل دیا کرتے تھے کہ 5 سال مینڈیٹ کا یہ مطلب نہیں کہ حاکم سیاہ/سفید کرے تب بھی نکالا نہیں جا سکتا۔ وہ اصول اب کیوں نہیں؟ لیکن اصل مُدعا پر بات کریں جب خان بھی 5 سال پُورے نہیں کر پائے گا تو اصل قصور کس کا؟ کیا خان کے بعد بہتری آئے گی؟ اس پر انصار عباسی نے کہا کہ ابصار صاحب میرے اختلاف کی وجہ unfair means کی ہے۔

ابصار عالم کا کہنا تھا کہ آپ کا اختلاف سر آنکھوں پر۔ میرا موقف یہ ہے کہ unfair means پر تنقید کرتے ہوئے اصل قصوروار اور original sin کو نہیں بھولنا چاہیے۔ اور اس بات پر بھی سوال اُٹھانے چاہیں کہ چہروں کی بجائے نظام کو کیوں نہیں بدلا جاتا؟ نئے یا پُرانے چہروں سے عوام نمٹ سکتے، لانے والوں کا کیا کریں؟

 

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں