اسلام آباد (صباح نیوز) پاکستان نے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی)کانفرنس پر بھارتی اعتراضات کو مسترد کر دیا۔ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار احمد نے او آئی سی کانفرنس پر بھارتی اعتراضات پر ردعمل دیتے ہوئے نئی دہلی حکومت کے غیرذمے دارانہ بیان کو مسترد کر دیا۔اپنے بیان میں ترجمان کا کہنا ہے کہ بھارتی وزارت خارجہ کا بیان مکمل طور پر ناقابل قبول اور غیرذمے دارانہ ہے اوآئی سی امت مسلمہ کی اجتماعی آواز،دوسری بڑی عالمی تنظیم ہے او آئی سی کے 57 ارکان اور 6 مبصر ممالک ہیں۔ انہوںنے کہاکہ بھارت یواین قراردادوں کے برخلاف کشمیر پر غیرقانونی قبضہ کر کے بیٹھا ہے بھارت نے طاقت سے کشمیریوں کی آواز دبانے کی کوشش کی۔ترجمان کا کہنا تھا کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کیں ،اس کے علاوہ، بی جے پی، آر ایس ایس سے متاثر ہندوتوا نظریہ نے اقلیتوں، خاص طور پر مسلمانوں کے لیے جگہ کو محدود کر دیا ہے۔ دفتر خارجہ نے کہا کہ ریاستی سرپرستی میں ظلم و ستم آج کے بھارت میں ایک معمول بن گیا ہے، ان کے مطابق او آئی سی نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مذمت کی ہے اور ایک بار پھر مضبوطی سے بھارت کے 5اگست 2019ء کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات اور اس کے بعد کے اقدامات کو مسترد کر دیا ہے۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ او آئی سی نے بھارت میں مسلمانوں کے خلاف صریح اور وسیع امتیازی سلوک، عدم برداشت اور تشدد کی بھی مذمت کی، او آئی سی نے بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ مذہبی آزادی سمیت ان کے حقوق کو یقینی بنائے، او آئی سی نے 9 مارچ کو بھارت کی جانب سے پاکستان کی سرزمین پر داغے گئے سپرسونک میزائل پر تشویش اور تحقیقات کا مطالبہ کیا۔