ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

سورج کی روشنی کا فائدہ اٹھانے کے لیے یورپ میں گھڑیاں ایک گھنٹہ آگے

سورج کی روشنی کا زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کے لیے یورپ میں آج ستائس مارچ بارہ بجے گھڑیاں ایک گھنٹہ آگے کر دی گئیں۔ یورپی یونین کے رکن ممالک اور سوئٹزرلینڈ میں موسم گرما کا وقت شروع ہو گیا ہے۔

اسپین میں آج 26 مارچ اور 27 مارچ کی درمیانی رات گھڑیوں کا وقت ایک گھنٹہ آگے کر دیا گیا۔ سرکاری طور پر رات 2 بجے گھڑیوں کو ایک گھنٹہ آگے کیاگیا۔ کمپیوٹر اور جدید موبائیل ٹیلیفونز میں یہ تبدیلی خود بخود ہو گئیں جبکہ گھڑیوں پر تبدیلی خود کرنی پڑی۔
جرمنی میں یہ سلسلہ 1980میں شروع ہوا تھا۔ گھڑیاں آگے کرنے کا مقصد توانائی بچانا ہے، اور سورج کی قدرتی روشنی سے مستفید ہونا ہے۔
چار دہائیوں بعد بھی اس کے مفید ہونے کے ٹھوس شواہد نہیں ہیں۔ یورپین لوگوں کی اکثریت اس فیصلے کے خلاف ہے، لیکن ایسے لوگ بھی ہیں جو شام میں زیادہ دیر کیلئے روشنی ملنے پر خوش ہوتے ہیں۔
فرانس میں پہلی بار ڈے لائٹ سیونگ ٹائم کا خیال ایک مشہور تاجر اور بلڈر ولیم ویلیٹ کو آیا جنھوں نے غور کیا کہ فرانس میں لوگ موسم گرما میں طلوع آفتاب کے بعد بھی سوتے رہتے ہیں۔
انھوں نے 1907ء میں اپنے خیال کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ‘روشنی کی بربادی’ کے عنوان سے ایک پمفلٹ میں دلیل دی تھی کہ گھڑیوں کو سال کے مختلف اوقات میں تبدیل کیا جانا چاہیئے تاکہ لوگ دن کے زیادہ وقت کا استعمال کر سکیں۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں