تیونس سٹی (انٹرنیشنل ڈیسک) تیونس کے صدر قیس سعید نے پارلیمان کو تحلیل کردیا۔ اس سے قبل تیونس کے قانون سازوں نے پارلیمان کے آن لائن اجلاس میں صدارتی فرمان کو منسوخ کرنے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ صدر قیس سعید نے اسے بغاوت کی ایک ناکام کوشش قرار دیتے ہوئے ایوان کو ختم کرنے کا فیصلہ سنادیا۔ خبررساں اداروں کے مطابق قیس سعید نے 217 رکنی پارلیمان کو کئی ماہ سے معطل کر رکھا تھا ۔ تاہم اس کے باوجود پارلیمان کے 124 ارکان نے ایک آن لائن اجلاس کیا اور اسی کے رد عمل میں صدر نے ایوان کو تحلیل کرنے کا اعلان کر دیا۔ ایوان کے نائب اسپیکر طارق فتیتی نے کہا کہ آن لائن اجلاس میں تقریباً 116 قانون سازوں نے صدر کے متنازع اقدامات’ کے خلاف ووٹ دیا۔ سعید قیس جولائی سے اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لیے وقتاً فوقتاً متنازع اقدامات کررہے ہیں۔ قومی سلامتی کے سربراہوں کے ساتھ ملاقات کے بعد صدر قیس سعید نے کہا کہ معطل پارلیمان کا اجلاس بغاوت کی ناکام کوشش سے اور مخالف ارکان ملک و قوم کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔ ادھر وزیر انصاف نے استغاثہ کو حکم دیا ہے کہ وتحلیل شدہ پارلیمان کے ارکان کے خلاف عدالتی تحقیقات کا آغاز کریں۔