ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

روس یوکرین جنگ کے پس پردہ امریکا اور یورپی ممالک کا ہاتھ ہے

اسلام آباد (رپورٹ: میاں منیر احمد)روس یوکرین جنگ کے پس پردہ امریکا اور یورپی ممالک کا ہاتھ ہے‘یوکرین کو اسلحہ اورلاجسٹک سپورٹ بھی مہیا کر رہے ہیں‘پاکستان چین کے موقف کی حمایت کرتا ہے‘ امریکی اور چینی موقف پر تجزیے کے لیے پارلیمنٹ بہترین فورم ہے‘ حساس عالمی معاملے پر بات کرتے وقت ہمیں اپنے ملک کی پالیسی کو مدنظر رکھنا چاہیے‘روس یوکرین جنگ میں پاکستان کا موقف بہت واضح ہے اور پاکستان عالمی امن کے قیام کے لیے چین کے موقف کی حمایت کرتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، تحریک انصاف کی یوتھ رئیل اسٹیٹ کے رہنما فہد جعفری،ممتاز قانون دان قوسین فیصل مفتی، عدالت عظمیٰ کے سینئر قانون دان ڈاکٹر صلاح الدین مینگل، سول سوسائٹی کے نمائندے معراج الحق صدیقی اور اسلام آباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹریز کے سابق سینئر نائب صدر طاہر آرائیں نے جسارت کے اس سوال کے جواب میں کیا کہ’’چین کا امریکا کو روس یوکرین جنگ کا ذمہ دار قرار دینا کہاں تک درست ہے؟‘‘ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان ایک ذمے دار ملک ہونے کے ناطے امن، خوشحالی اور علاقائی روابط کے لیے کوشش کر رہا ہے تاکہ جنوبی ایشیا میں غربت اور پسماندگی کے چیلنجز سے نمٹنے میں مدد مل سکے‘ اس کے لیے ہمیں ایک رضامند شراکت دار کی ضرورت ہے جو نیک نیتی کا مظاہرہ کرے اور بہتر ماحول قائم کرنے کے لیے پُرعزم ہو۔ فہد جعفری نے کہا کہ پوری دنیا کو روس یوکرین جنگ بندکرانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے‘ چین کے موقف سے اختلاف یا اتفاق کرنے کے لیے مناسب فورم پارلیمنٹ ہے‘ وہاں اس پر ضرور بات ہونی چاہیے‘ یہ حساس ایشو ہے اس پر رائے دیتے ہوئے ہمیں اپنے ملک کی پالیسی کو اپنے ذہن میں رکھنا ہوگا‘ پاکستان کی اس جنگ کے بارے میں یہ سوچ ہے یہ جنگ بند ہونی چاہیے۔ قوسین فیصل مفتی نے کہا کہ روس یوکرین جنگ اگر ختم نہ ہوئی تو یہ جنگ عالمی امن کے لیے خطرہ بن سکتی ہے اور امریکا کے بارے میں چین کا موقف اس کے اپنے تجزیے کی بنیاد پر ہے ‘ ہر ملک جب عالمی صورت حال کا تجزیہ کرتا ہے تو وہ بہت سوچ سمجھ کر پالیسی بیان جاری کرتا ہے‘ چین نے اگر ایسا موقف اختیار کیا ہے تو اس کا اس کے پاس ضرور کوئی جواز ہوگا، عالمی سطح پر ایسے اقدامات کیے جارہے ہیں کہ جس سے یہ جنگ بند ہونے کی امید پیدا ہوئی ہے۔ڈاکٹر صلاح الدین مینگل نے کہا کہ چین کے موقف کا تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے اور ہمیں یہ تجزیہ کرتے ہوئے بہت احتیاط سے کام لینا چاہیے کہ ہم ایک پاکستانی کے طور پر کسی ایک فریق کے ساتھ جانبدار نظر نہ آئیں‘ یہ بات ضروری نہیں ہے کہ ایک ملک اگر کوئی اپنا موقف پیش کرے اور اس پر حکومت پاکستان خاموش رہے مگر پاکستان کے تجزیہ کار اس پر اپنا موقف پیش کرتے رہیں، ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہیے‘ ہمیں پاکستانی کی حیثیت سے پہلے اپنے ملک کا موقف دیکھنا ہوگا اور ہم اپنے ملک کے موقف پر تجزیہ بھی دے سکتے ہیں ‘غیر ملکی طاقتیں یوکرین پر روس سے بات چیت کے لیے دباؤ نہیں ڈال رہی ہیں‘ روس اور یوکرین کے درمیان جاری لڑائی میں ہر گزرتے دن کے ساتھ شدت پیدا ہوتی چلی جا رہی ہے اور معاملات عالمی جنگ کی طرف بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں جس کی وجہ سے اقوامِ عالم میں شدید تشویش اور اضطراب پیدا ہو رہا ہے‘ امریکی صدر جوبائیڈن نے اس حوالے سے کہا ہے کہ دنیا کو طویل جنگ کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ معراج الحق صدیقی نے کہا کہ اس جنگ کے باعث یوکرین کی فوج کے پاس کوئی منظم ذخائر باقی نہیں رہے‘ روس اور یوکرین کے مابین اس لڑائی کے نتیجے میں عالمی امن کو شدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں‘ امریکا اور یورپی ممالک یوکرین کی امداد اور حمایت کے دعویدار ہیں اور اسے اسلحہ اور لاجسٹک سپورٹ بھی مہیا کر رہے ہیں‘یورپ میں امریکی فوجیوں کی تعداد ایک لاکھ تک پہنچ چکی ہے لیکن اس تمام صورتحال اور دعوئوں کے برعکس کوئی امریکی یا یورپی فوجی یوکرین میں روس کے خلاف لڑنے کے لیے یوکرین کی سرحدوں پر موجود نہیں‘ امریکی موقف اور چین کے اس بیان کا تجزیہ کرنے کے لیے پارلیمنٹ بہترین فورم ہے۔ طاہر آرائیں نے کہا کہ روس اور یوکرین کی اعلیٰ قیادت سے رابطہ کر کے انہیں جنگ بندی پر مجبور کرنا چاہیے اور امن کے قیام کے لیے تمام وسائل اور اثر و رسوخ کو استعمال کرنا چاہیے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں